انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 8

انوار العلوم جلد ۳ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف مجھے اس تکلیف سے نجات دے تو میں دیکھتا ہوں کہ میرا تمام جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔میں اُس کے لئے دعا تو کرتا ہوں مگر میری خوشی مٹ جاتی ہے کیونکہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ خدا کے راستے میں دُکھ اُٹھا نا کسی مومن کو دو بھر معلوم ہو۔ہاں اگر گناہوں کی وجہ سے کوئی تکلیف آئے یا آسمانی بلاء اُترے یا کسی کا عزیز بیمار ہو جائے تو یہ اور بات ہے۔اس کا حق ہے کہ وہ مجھے دعا کیلئے لکھے مگر یہ پسندیدہ امر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جو مشکلات پیش آئیں ، ان پر گھبراہٹ یا خوف کا اظہار کیا جائے۔اگر کسی کے سامنے ایسی مصائب آتی ہیں تو وہ خوش قسمت انسان ہے اور مجھے اس سے خوشی ہوتی ہے لیکن جب وہ مجھے دعا کیلئے لکھتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ کمزور دل کا انسان ہے اللہ تعالیٰ اسے ابتلاء سے محفوظ رکھے۔یاد رکھو خدا تعالیٰ کیلئے جو تکالیف انسان برداشت کرتا ہے وہ بادشاہوں کے تخت سے بھی زیادہ اعزاز کا موجب ہوتی ہیں۔بے شک خدا نے منع فرمایا ہے کہ انسان خود کسی مصیبت کا طالب ہو اور اس نے اپنی مصلحتوں کے ماتحت اس قسم کی خواہش سے انسان کو روک دیا ہے لیکن اگر خدا اس قسم کی دعا سے نہ روکتا تو عاشق صادق تو یہی دعا کیا کرتے کہ الہی ! ہمیں تیرے راستہ میں مصائب پہنچیں اور سچے عاشق تو پھر بھی اپنے رنگ میں دعا کر ہی لیا کرتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دعا فرمایا کرتے تھے۔الہی ! مجھے مدینہ میں موت آئے اور آئے بھی شہادت کی موت۔2 آخر اللہ تعالیٰ نے مدینہ سے ہی ایک آدمی کو کھڑا کر دیا اور اس طرح انہیں شہادت نصیب ہو گئی۔تو مومنِ صادق ان ابتلاؤں سے ہرگز نہیں گھبرا تا جو دین کی وجہ سے اُس پر وارد ہوں۔ہاں جو دُنیوی امور کی وجہ سے تکالیف آئیں ان میں دعا کراتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کیلئے جو ابتلاء ہوں ان میں رنج کی کونسی بات ہوتی ہے جو انسان دعا کیلئے لکھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دفعہ جنگ میں انگلی پر زخم آیا آپ نے ایک شعر پڑھا حالانکہ آپ شعر نہیں کہا کرتے تھے۔فرمایا هل أنتِ إِلَّا إِصْبَعَ دَمِيتِ تو اُنگلی ہی ہے جو خدا کی راہ میں زخمی ہوئی۔پھر یہ زخمی ہونا کونسی بڑی بات ہے۔پس اگر تم واقعی انصار اللہ بنا چاہتے ہو تو دین کا جھنڈا تمہیں بلند رکھنا چاہئے اور دین کی وجہ سے جو مشکلات پیش آئیں اُن سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ بجائے اس کے کہ تم ان تکالیف کو ذلت محسوس کرو، فخر کے ساتھ ان کا دوسروں کے پاس ذکر کرو کیونکہ وہ ذلت نہیں بلکہ عزت ہیں کوئی