انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 59

۵۹ انوار العلوم جلد ۱۳ ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے توکل پر ہونی چاہئے ہوتے ہیں وہ اپنے طور پر دعوت کر دیتے ہیں حالانکہ جو مبلغ باہر جاتا یا با ہر سے قادیان آتا ہے اس کا خلافت کے بعد پہلا تعلق ناظر دعوت و تبلیغ سے ہوتا ہے اور اس کا دوسرا تعلق قادیان کی مقامی جماعت سے ہوتا ہے لیکن اگر میرا حافظہ غلطی نہیں کرتا تو جب سے کہ یہ سلسلہ تبلیغ شروع ہوا ہے میں نے آج تک نہیں دیکھا کہ کبھی ناظر دعوت و تبلیغ یا لوکل انجمن کی طرف سے آنے والے مبلغین کو دعوت نہ سہی، اعزازی پارٹی ہی دی گئی ہو۔مجھے جب بھی یہ خیال آیا کرتا ہے میں سمجھتا ہوں ان کی مثال ویسی ہی ہے جیسے کسی شخص کے گھر مہمان آئے اور وہ باہر نکل کر اعلان کرنا شروع کر دے کہ بھائیو! میرے ہاں مہمان آیا ہے اپنے اپنے گھر کھانا تیار رکھنا اور اتنا کہہ کر وہ سمجھ لے کہ اس کا فرض ادا ہو گیا۔ذاتی طور پر میں ہمیشہ آنے والے مبلغین کے اعزاز میں حصہ لیتا ہوں۔اِلَّا مَا شَاءَ اللهُ اگر بعض دفعہ نہ ہو سکا ہو تو یہ اور بات ہے۔ورنہ جب بھی کوئی مبلغ آتا ہے میں ہمیشہ اس کی دعوت کرتا ہوں تا کہ جماعت میں یہ احساس رہے کہ ہم ان لوگوں کے کاموں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔غرض میرا نمونہ ان لوگوں کیلئے موجود تھا اور نچلے لوگوں کا نمونہ بھی موجود تھا یعنی طالب علموں کا کیونکہ وہ نچلے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی نگاہیں راہ نمائی حاصل کرنے کیلئے ہماری طرف اٹھا کرتی ہیں مگر باوجود اس کے کہ اوپر سے انہوں نے مجھے اعزاز کرتے دیکھا اور نیچے سے طالب علموں کو قادیان کی لوکل انجمن احمد یہ اور نظارت دعوت و تبلیغ نے کبھی مبلغین کی آمد پر اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کیا۔وہ اپنا فرض صرف یہی خیال کرتے ہیں کہ دوسروں کی پارٹی میں حصہ لیا اور چلے گئے حالانکہ میں سمجھتا ہوں سب سے پہلا حق ناظر دعوت و تبلیغ کا ہے کہ وہ ذاتی طور پر نہیں بلکہ نظارت کا نمائندہ ہوکر مبلغ کا خیر مقدم کرے۔دنیا کی حکومتوں میں بھی جب کوئی شخص نمایاں کام کر کے آتا ہے تو فارن سیکر ٹری اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ حکومت اس کی خدمات کو تسلیم کرتی اور قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔اگر اسی دعوت میں تحریک کر دی جاتی اور کسی کو خیال آ جاتا کہ ناظروں کو بھی کہہ دینا چاہئے کہ وہ اس میں شریک ہو جا ئیں تو میں سمجھتا ہوں اس پُرانی کوتا ہی کے ازالہ کی صورت نکل آتی۔مگر کسی وجہ سے نہ محرروں کو یہ خیال آیا اور نہ ہی ناظر وں کو۔میں اس بات کا بھی ذکر کر دینا چاہتا ہوں کہ سوشل تعلقات میں امتیاز نہیں ہوتا۔محرر یا ناظر ہونا ، چھوٹا یا بڑا ہو نا محض انتظامی امور کیلئے ہے ورنہ اسلام تو آیا ہی اسی لئے ہے کہ تا وہ تمام بنی نوع انسان میں محبت اور اخوت کے تعلقات قائم کرے۔وہ جہاں اس قدر شدید اطاعت قائم