انوارالعلوم (جلد 13) — Page 35
۳۵ انوار العلوم جلد ۳ قرآن کریم پر ستیارتھ پرکاش کے اعتراضات کی حقیقت حقیقی اخلاص اور نیکی کی تعلیم دی گئی ہے۔دوسرے اگر بفرض محال پنڈت صاحب کے اعتراض کو پر کھنے کیلئے اس ترجمہ کو صحیح بھی قرار دے دیا جائے ، تب بھی اعتراض فضول اور خلاف عقل ہے کیونکہ جب خود پنڈت دیانند صاحب کا بھی یہی اعتقاد تھا کہ آریہ مذہب میں داخل ہو کر ہی نجات مل سکتی ہے اور بغیر ویدوں کے ماننے کے انسان سر خرو نہیں ہو سکتا ہے کیا ان کے اعتقاد پر یہ اعتراض نہ وارد ہو گا کہ کیا خدا صرف ویدوں کے ماننے سے خوش ہوتا ہے۔کیا وہ آریوں کا طرفدار ہے؟ اور پھر ہر ایک سچائی پر اعتراض ہو گا کہ کیا خدا اس سچائی کا طرفدار ہے۔جب اسلام کا دعوی ہے کہ گل سچائیاں اس کے اندر پائی جاتی ہیں تو کیا یہ کہا جائے کہ اسلام کے باہر جس قدر گند ہیں، ان پر بھی اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور ان میں ملوث انسان کو نجات عطا کرتا ہے۔جب آریوں کا ویدوں کی نسبت یہی عقیدہ ہے تو پنڈت صاحب کو اسلام پر اعتراض کرنے کی کیاسو جبھی۔سچ ہے نیش عقرب نه از پے کین است مقتضائے طبیعتش این است چوتھا اعتراض جو کچھ آسمان اور زمین پر ہے سب اسی کیلئے ہے۔(سورہ بقرہ : ۲۵۶) محقق۔جو آسمان اور زمین پر چیزیں ہیں وے سب انسانوں کے واسطے خدا نے پیدا کی ہیں اپنے واسطے نہیں۔کیونکہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔(صفحہ ۷۸) جس آیت پر پنڈت صاحب نے اعتراض کیا ہے وہ یہ ہے لَهُ مَا فِي السَّمواتِ وَالْأَرْضِ کے یعنی جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت جوار اب میں ہے اور یہی اعتقاد زبانی طور سے آریوں کا بھی ہے اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی انسان جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان رکھتا ہو یہ کہے کہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں نہیں ہیں بلکہ کسی اور کے قبضہ میں ہیں۔پس جب اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک سچائی کا بیان کیا ہے تو اس پر پنڈت صاحب کو کیا اعتراض ہے۔یہ زیادتی انہوں نے کہاں سے نکالی کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اسے خدا خود استعمال کرتا ہے اور بندوں کی طرح ان اشیاء کا محتاج ہے۔یہاں اس بات کا ذکر تو نہیں کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اشیاء کس لئے پیدا کی ہیں بلکہ یہ لکھا گیا ہے کہ یہ سب اشیاء کس کی ملکیت میں ہیں۔اور ان اشیاء پر خدا تعالیٰ کی ملکیت کا انکار خود آریہ صاحبان بھی نہیں کرتے پھر یہ اعتراض نہ معلوم کیا سوچ کر کیا گیا ہے۔شاید کہ دیا جائے کہ یہ پریس کی غلطی تھی ، پنڈت صاحب نے یہ اعتراض نہیں کیا تھا بلکہ بعض حاسدوں نے اپنی طرف سے ملاد یا لیکن