انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 34

۳۴ انوار العلوم جلد ۱۳ قرآن کریم پر ستیارتھ پرکاش کے اعتراضات کی حقیقت چنانچہ اسی وجہ سے مسلمان گائے وغیرہ کے ذبح کے وقت یہ الفاظ کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس جگہ قطعاً یہ بیان نہیں فرمایا کہ ہر ایک کام کی ابتدا کے جواب اوّل فرمائی ہے۔وقت یہ آیت استعمال کی جائے بلکہ یہاں تو سورۃ فاتحہ کی ابتدا میں جیسا کہ اوپر بیان کر چکا ہوں یہ آیت تو ابتدائے قرآن میں اس لئے رکھی گئی جواب دوم ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ الہی ! تو مجھے ہر ایک بدی سے محفوظ رکھ اور گناہ سے بچا اور میں سب قسم کی بدکاریوں میں پڑنے سے بچنے کے لئے تیرے نام سے برکت طلب کرنا اور تیری استعانت کا خواہاں ہونا مناسب اور ضروری سمجھتا ہوں پھر یہ آیت گناہ کی ابتدا میں کس طرح پڑھی جاسکتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے اسلام میں بدیوں کو اور گناہوں کو جائز قرار دیا ہوتا تب تو جواب سوم یہ اعتراض پڑتا لیکن جب اسلام کا خدا ہر ایک مسلمان کو قطعی حکم دیتا ہے کہ اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَائُ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْي یعنی اے انسان! اللہ تعالیٰ عدل اور احسان اور قریبیوں سے سلوک کرنے کا حکم کرتا ہے اور ایسی باتوں سے جو نخش ہوں جو لوگوں کیلئے ایذاء رساں ہوں، جن سے حکام یا ماتحتوں کے حقوق تلف ہوتے ہوں منع کرتا ہے تو با وجود ایسے صریح حکم کے جو شخص بدیوں میں مبتلا ہے وہ مسلمان کب رہ سکتا ہے اور اسلام پر کیا الزام؟ تیسرا اعتراض ایک اور اعتراض پنڈت جی نے یہ کیا ہے کہ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو۔داخل ہو بیچ اسلام کے۔(بقرہ آیت ۲۴ ) محقق : اگر مسلمانوں کے مذہب میں داخل ہونے سے خدا راضی ہوتا ہے تو وہ مسلمانوں ہی کا طرفدار ہے سب دنیا کا خدا نہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ قرآن خدا کا بنایا ہوا ہے، نہ اس میں کہا ہوا خدا ہوسکتا ہے۔اول تو پنڈت صاحب نے آیت کا ترجمہ ہی غلط کیا ہے۔آیت تو یہ ہے یأیها جواب الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِى السّلْمِ كَافَّةً" اے وہ لوگو! جو ایمان لائے تمام کے تمام کامل فرمانبرداری اور سلامت روی کے طریقوں کو اختیار کرو۔ورنہ جب کہ وہ پہلے ہی مسلمان تھے تو اس کے کیا معنی ہوئے کہ اسلام میں داخل ہو جاؤ۔یہ ظاہری ایمان کے بعد