انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 31

انوار العلوم جلد ۱۳ قرآن کریم پر ستیارتھ پرکاش کے اعتراضات کی حقیقت ہوتا ہے،اس لئے ان کے پیروؤں کو لازماً اقرار کرنا پڑے گا کہ وید خدا کا کلام نہیں ہے۔چنانچہ رگوید جوسب ویدوں میں معتبر مانا گیا ہے، اس کا اکثر حصہ دیکھنے پر میں نے ایک بھی منتر ایسا نہیں پایا جس میں خدا متکلم ہو اور بندہ مخاطب ہو بلکہ ہر جگہ بندہ بولتا ہے اور اللہ تعالیٰ مخاطب ہوتا ہے۔پس بقول پنڈت دیانند صاحب وید خدا کا کلام نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر خدا کا کلام ہوتا تو اللہ تعالیٰ بولنے والا ہوتا۔مثال کے طور پر ہم رگوید کے چند منتر ذیل میں درج کرتے ہیں جس سے ناظرین پر گھل جائے گا کہ پنڈت صاحب قرآن شریف پر اعتراض کرتے وقت کس قدر حق گوئی پر مائل تھے۔چنانچه ر گوید اسٹک اول پہلا ادھیائے سکت اوّل کا منتر اس طرح شروع ہوتا ہے۔(۱) ” میں اگنی دیوتا کی جو ہوم کا بڑا گر و کارکن اور دیوتاؤں کو نذریں پہنچانے والا ہے اور بڑا ثروت والا ہے مہما کرتا ہوں“۔اب ہر عقلمند غور کر سکتا ہے کہ جیسے قرآن شریف کے شروع میں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ ہے اسی طرح وید کا شروع بھی اس رنگ میں کیا گیا ہے کہ بندہ بول رہا ہے اور خدا مخاطب ہے۔پس جو انسان اس وید کے شروع میں اس منتر کو پڑھ کر پھر بھی اسے خدا کا کلام مانتا رہا ہے اور ہمیشہ ویدوں کی بڑائی کے گن گاتا رہا ہے، کیسے شرم کی بات ہے کہ جب قرآن شریف کی طرف آتا ہے تو یہ بات اسے تعجب میں ڈال دیتی ہے اور بے اختیار چلا اٹھتا ہے کہ ایسا کلام خدا کا کلام نہیں ہو سکتا۔کاش! وہ غور کرتا اگر قرآن شریف ایسی چند آیتوں کی وجہ سے جو حکایتاً انسان سے بیان کی گئی ہیں خدا کا کلام نہیں ہو سکتا تو وید جو سارے کا سارا اسی رنگ میں بیان کیا گیا ہے، خدا کا کلام کیونکر ہو سکتا ہے۔ہاں ایک صورت ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ وید کے گل منتروں کو خدا کا کلام تو مانا جائے لیکن یہ بھی یقین کیا جائے کہ ویدک عقیدہ کی رو سے دو خدا ہیں اور وید میں ایک خدا دوسرے خدا سے جو اس سے بڑا درجہ رکھتا ہے ہم کلام ہے۔لیکن آریہ صاحبان امید نہیں کہ اس تجویز سے بھی متفق ہو سکیں۔یہ تو ابتدا کا حال ہے لیکن رگوید کو کہیں سے کھول کر دیکھ لو ہر جگہ بندہ خدا و یدک دعائیں سے دعا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔جس سے یقین ہوتا ہے کہ وید ہرگز خدا کا کلام نہیں بلکہ وقتا فوقتا ہندوؤں کے بزرگوں نے جو دعائیں کی ہیں ، ان کا مجموعہ ہے۔ہم مختلف جگہوں سے چند اور مثالیں درج کر کے دکھاتے ہیں کہ رگوید میں ایک بھی منتر نہیں جس میں خدا