انوارالعلوم (جلد 13) — Page 30
انوار العلوم جلد ۱۳ قرآن کریم پر ستیارتھ پرکاش کے اعتراضات کی حقیقت استعمال کرے جو کہ گورنمنٹ نے اس عرضی کیلئے خود مقرر کئے ہیں۔چنانچہ وہ لوگ جو دفاتر کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں یا جنہیں کبھی کسی مقدمہ میں حاضر ہونا پڑا ہو، اس بات کو خوب جانتے ہیں۔وکلاء کیلئے بھی ہائی کورٹوں نے خاص الفاظ مقرر کئے ہوئے ہیں کہ جو انہیں عدالت کے سامنے تقریر کرنے سے پہلے کہنے پڑتے ہیں۔اسی طرح مختلف سوسائٹیوں میں داخلہ کیلئے خاص فارم پر کرنے پڑتے ہیں اور یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ ہر ایک انسان سمجھ نہیں سکتا کہ کن الفاظ میں اپنا مَا فِي الضَّمِيرِ ادا کرے اور نہ وہ یہ جان سکتا ہے کہ کونسے الفاظ ضر ر اور نقص سے پاک ہیں اس لئے دنیوی گورنمنٹیں بھی احتیاطاً خود درخواست کے الفاظ مقرر کر دیتی ہیں اور سائل کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ ان الفاظ کو استعمال کرے تا کہ بہت حد تک نقصوں سے محفوظ رہے۔اسی فائدہ کو مدنظر رکھ کر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی ایک بہت بڑی خصوصیت بھی ابتدائے قرآن میں سورۃ فاتحہ نہایت ہی پاک اور بے عیب الفاظ میں انسان کو سکھائی ہے تا کہ وہ اس کے ذریعہ سے اپنے ہر قسم کے مطالب کو اللہ تعالیٰ سے طلب کرے پس اس پر اعتراض کرنا تعصب نہیں تو اور کیا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس دعا کی وجہ سے مسلمان ہر ایک مذہب پر غالب ہیں اور کوئی مذہب نہیں جو اپنے پیراؤں کو ایسی پاک اور جامع دعا سکھاتا ہو جس میں مختصر الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی گل صفات کا بیان بھی ہو ، خالق اور انسان کے تعلقات بھی بیان کئے گئے ہوں، پھر انسانوں کے آپس کے تعلقات بھی مذکور ہوں اور پھر ایک جامع و معنی دعا بھی ہو۔یہ ایک اسلام اور صرف اسلام ہی ہے جس میں اپنے پیروؤں کو اس کامل دعا کا ہتھیار دیا گیا ہے اور چونکہ دعا کے ماتحت ہی نتائج نکلتے ہیں ، اس لئے مسلمانوں کی طرح کوئی قوم خدا تعالیٰ سے نیک ثمرات کی امید وار نہیں ہو سکتی۔وید پر اعتراض یہاں تک یہ ثابت کرنے کے بعد کہ چونکہ انسان دعا میں اپنے الفاظ میں پوری طرح محتاط نہیں ہو سکتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سورۃ فاتحہ ایک کامل دعا سکھائی ہے اور یہ کہ اس کی مثال دنیوی گورنمنٹوں کے انتظام میں بھی ملتی ہے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پنڈت صاحب نے جو اعتراض قرآن پر کیا ہے وہی وید پر الٹ کر پڑتا ہے اور قرآن شریف میں تو صرف ایک قلیل حصہ ہے جو بطور حکایت از انسان بیان کیا گیا ہے لیکن وید سارے کا سارا اس الزام کے نیچے ہے اور چونکہ پنڈت صاحب اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ جس کلام کا کوئی حصہ انسان سے حکایتا بیان ہو وہ کلام الہی نہیں ہوسکتا بلکہ انسانی کلام