انوارالعلوم (جلد 13) — Page 301
301 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق ہے۔ہر شخص جانتا ہے کہ یہاں کے اکثر لوگوں کی روزی کا مدار نہروں پر ہے۔ان نہروں کے ذریعہ ہی یہ علاقہ ایسا زرخیز ہو گیا وگرنہ یہاں کیا رکھا تھا۔آبادی نہایت کم تھی اور بوجہ دُور دُور رہنے کے لوگ تمدن سے نا آشنا ہو گئے تھے اور اس وجہ سے جانگلی کہلاتے تھے۔غرض اس پیشگوئی کے دیکھنے سے پتہ لگتا ہے کہ اس زمانہ کا نقشہ نہایت وضاحت سے کھینچا گیا ہے۔بقیہ پیشگوئیاں یہ ہیں کہ جب ستارے مکدر ہو جائیں گئے پہاڑ اڑائے جائیں گئے اونٹ بیکار ہو جائیں گئے وحشیوں کو اکٹھا کیا جائے گا، نہریں جاری ہو جائیں گی ۳۲۔لڑکیوں کا مارنا قا نو ناروک دیا جائے گا، اخبارات نکلیں گے، ہیئت کے علوم پھیل جائیں گئے، جہنمی کا رروائیاں کثرت سے ہوں گی جنت کا حصول آسان ہو جائے گا، بدی کی اس قدر کثرت ہوگی کہ تھوڑی سی نیکی بھی خدا کی خوشنودی کا موجب ہوگی، ۳۳ یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جو فی زمانہ پوری ہو رہی ہیں۔لڑکیوں کا قتل اس زمانہ سے قبل پہلے کبھی روکا نہیں گیا تھا حتی کہ مسلمان بادشاہوں نے بھی اپنے زمانہ میں اس کی اجازت ہندوؤں کو دے رکھی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانہ میں اس پیشگوئی کا ایک تتمہ بھی بیان فرمایا ہے۔آپ کا الہام ہے بَلِيَّةٌ مَالِيَّةٌ ۳۴ یعنی ایک زمانہ آئے گا کہ چیزیں موجود ہوں گی مگر روپیہ نہیں ملے گا۔پہلے ملک میں کال اور قحط اس لئے ہوتے تھے کہ گندم یا غلہ کم پیدا ہوتا تھا مگر اس وقت مالی مصیبت اس وجہ سے آئی ہے کہ پیدا وار ضرورت سے زیادہ ہوگئی ہے اور گاہک نہیں ملتے۔دیکھو یہ کتنی واضح پیشگوئی ہے۔آج ساری دنیا امریکہ انگلینڈ، جرمنی، فرانس، جاپان، ہندوستان غرضیکہ سب رو ر ہے ہیں کہ مر گئے تباہ ہو گئے۔زمیندار غلہ پیدا کر رہے ہیں مگر کوئی گاہک نہیں ملتا اور سرکاری مالیہ تک ادا نہیں ہوسکتا غرضیکہ ایک عظیم الشان ابتلاء کی خبر دی گئی تھی جو اس زمانہ میں پوری ہوئی ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی ذات میں اس کے بعد میں ایک ایسی پیشگوئی کو لیتا ہوں جو آپ سے صداقت مسیح موعود کا زبردست نشان مجھ سے بلکہ ساری دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے۔إِنِّي مَعَكَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ ب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو عَلی دِینِ وَاحِدٍ، ۳۵ یعنی اے اللہ کے رسول کے بیٹے ! میں تیرے ساتھ ہوں تم سب دنیا کے مسلمانوں کو ایک سلسلہ میں جمع کرو اور ایک دین کا پابند بناؤ۔