انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 29

۲۹ انوار العلوم جلد ۱۳ قرآن کریم پر ستیارتھ پرکاش کے اعتراضات کی حقیقت جواب اوّل بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیم سورۃ فاتحہ کی ایک آیت ہے اورسورۃ فاتحہ ایک دعا ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ نے سکھائی ہے تا وہ اسے خدا تعالیٰ کے سامنے پڑھ کر اپنا حال عرض کرے۔چنانچہ عربی کے قاعدہ کے لحاظ سے بسم اللہ میں جو بات آتی ہے اس کا ایک متعلق مقد رضرور ماننا پڑے گا کیونکہ جملہ میں ”با‘ کا متعلق ضرور آتا ہے جو کہ یا فعل ہوتا ہے یا معنی فعل یا شبہ فعل۔پس اس قاعدہ کے ماتحت بسم الله کا مقدر متعلق جب ہم لگاتے ہیں تو فقرہ یوں بن جاتا ہے۔اِقْرَأْ بِسْمِ اللہ یعنی میں اللہ تعالیٰ کا نام لے کر یہ دعا یا قرآن شریف پڑھتا ہوں۔دوسرے ایک حدیث میں ہے۔کہ كُلُّ أَمْرٍ ذِى بَالِ لَمْ يُبْدَأْ بِسْمِ اللهِ فَهُوَ أَقْطَعُ وَ اَبْتَرُ جو کام اللہ کا نام لے کر شروع نہیں کیا جاتا وہ کبھی کامیاب اور سرسبز نہیں ہوتا۔پس اس قرینہ سے اقرا کے ابتداء کی تقدیر نکلے گی اور اس آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ میں اللہ تعالیٰ کے نام سے استعانت طلب کرتا ہوں اور اس کلام کو پڑھنا شروع کرتا ہوں یا اس کام کو کرتا ہوں۔پس سورۃ فاتحہ ایک دعا ہے جو انسان کو سکھائی گئی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ دعا خدا کی طرف سے نہیں ہوتی بلکہ بندہ کی طرف سے ہوتی ہے۔اگر پنڈت صاحب کا یہ مطلب ہے کہ اس دعا میں اللہ تعالیٰ سائل ہوتا اور بندہ مسئول تب قرآن شریف خدا تعالیٰ کا کلام ثابت ہوتا تو آریہ سماج کو بہت جلد یہ اعتراض ستیارتھ پرکاش سے مٹا کر اہل عقل و دانش کی بنسی سے بچنا چاہئے۔کیونکہ ہمیشہ دعا بندہ کی طرف سے ہوتی ہے خدا کی طرف سے نہیں کیونکہ جوشخص سوال کرتا ہے، وہ محتاج ہوتا ہے اور جس سے سوال کیا جاتا ہے وہ محتاج الیہ۔یعنی اس کے حضور میں دوسرے لوگ محتاج ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس کے حضور میں کوئی کمی نہیں اور زمین و آسمان اور ذرہ ذرہ کا مالک ہے کسی کا محتاج نہیں ہو سکتا بلکہ اگر وہ محتاج ہو تو اس لفظ اللہ کا اطلاق اس پر نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ کے معنی ہیں ہر ایک خوبی سے متصف اور ہر ایک عیب سے مبرا۔اور کسی کا محتاج ہونا تو بڑا عیب ہے جو اللہ تعالیٰ میں نہیں پایا جا سکتا۔پس میں نہیں سمجھتا کہ پنڈت صاحب کو اس اعتراض کرنے کا خیال ہی کیوں پیدا ہوا کیونکہ جب سورۃ فاتحہ ایک دعا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو سکھائی ہے تو ضرور تھا کہ وہ ایسے الفاظ میں ہوتی جس سے ظاہر ہوتا کہ بندہ عرض کرتا ہے اور مالک سن رہا ہے اس کی مثالیں دنیوی گورنمنٹ کے قواعد میں بھی کثرت سے مل سکتی ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی نے بھی مختلف عرائض کے لئے خود الفاظ بنا کر دئیے ہیں اور لازمی ہوتا ہے کہ ہر ایک سائل جب کوئی درخواست کسی خاص محکمہ میں دے تو وہی الفاظ