انوارالعلوم (جلد 13) — Page 149
۱۴۹ انوار العلوم جلد ۱۳ رحمة للعالمين ہے جو تمام حکموں پر عمل کر سکتا ہے؟ اور جس نے ایک ادنیٰ سے حکم کی بھی نافرمانی کی وہ باغی بن گیا۔کیا عمدہ سے عمدہ شے کو ایک قطرہ ناپاکی کا ناپاک نہیں کر دیتا ؟ پھر تم کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ تم پاک ہو یا پاک ہو سکتے ہو کیا تم کو یاد نہیں کہ تمہارے باپ آدم نے گناہ کیا اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو بھول گیا اور شیطان نے اس کو اور اس کی بیوی حوا کو جو تمہاری ماں تھی ورغلایا اور گنہگار کر دیا ؟ ا تم جو ان کی اولاد ہو کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ ان کے گناہ کے ورثہ سے حصہ نہ لو گے؟ کیا تم امید کرتے ہو کہ ان کی دولت پر تو قابض ہو جاؤ اور ان کے قرضے ادا نہ کرو؟ ان کی نیکیاں تو تم کومل جائیں اور ان کے گناہ میں تم حصہ دار نہ بنو؟ اور جب گناہ تم کو ورثہ میں ملا ہے تو تم اس ورثہ کی لعنت سے بیچ کیونکر سکتے ہو؟ تم خیال کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم کو معاف کر دے گا ؟ نادانو ! تم کو یاد نہیں کہ وہ رحم کرنے والا بھی ہے اور عدل کرنے والا بھی ؟ اس کا رحم اس کے عدل کے مخالف نہیں چل سکتا۔پس کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ تمہاری خاطر اپنے عدل کو بھول جائے؟ میں نے دیکھا ان کی تقریروں میں مایوسی کی لہر اس قدر ز بر دست تھی کہ امیدوں کے پہاڑ کو اُڑا کر لے گئی۔جو چہرے خوشیوں سے ٹمٹما رہے تھے حرمان و یاس سے پژمردہ ہو گئے۔دنیا اور اس کے باشندے ایک کھلونا اور وہ بھی شکستہ کھلونا نظر آنے لگے مگر ذرا سانس لیکر ان علماء نے پھر گرج کر لوگوں کو مخاطب کیا اور کہا مگر تم مایوس نہ ہو کہ جہاں تمہاری امیدوں کو تو ڑا گیا ہے وہاں ان کے جوڑنے کا بھی انتظام موجود ہے اور جہاں ڈرایا گیا ہے وہاں بشارت بھی مہیا کی گئی ہے۔خدا کے عدل نے تم کو سزا دینی چاہی تھی مگر اس کے رحم نے تم کو بچا لیا اور وہ اس طرح کہ اس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا کہ تا وہ بے گناہ ہو کر صلیب پر لٹکایا جائے اور سچا ہو کر جھوٹا قرار پائے۔چنانچہ وہ مسیح کی شکل میں دنیا میں ظاہر ہوا اور یہود نے اسے بلا کسی گناہ کے صلیب پر لٹکا دیا اور وہ تمام ایمان لانے والوں کے گناہ اُٹھا کر ان کی نجات کا موجب ہوا لے پس تم اس پر ایمان لاؤ وہ تمہارے گناہ اٹھالے گا۔اس طرح خدا کا عدل بھی پورا ہوگا اور رحم بھی اور دنیا نجات پا جائے گی۔میں نے دیکھا کہ مایوسی پھر دور ہوگئی اور لوگ خوشیوں سے اچھلنے لگے اور ساری دنیا نے ایسی خوشی کی جس کی نظیر پہلے کبھی نہیں ملتی اور لوگ آئے اور صلیب کو جو ان کی نجات کا موجب ہوئی روتے ہوئے چھٹ گئے۔وہ بیتاب ہو کر کبھی اس کو بوسہ دیتے اور کبھی اس کو سینہ سے لگاتے اور ایک دیوانگی کے جوش سے انہوں نے اس چیز کا خیر مقدم کیا۔لیکن میں نے دیکھا کہ اس جوش کے سرد ہونے پر بعض لوگ سر گوشیاں کر رہے تھے اور آپس میں کہتے تھے کہ یہ تو بے شک معلوم ہوتا ہے کہ