انوارالعلوم (جلد 13) — Page 104
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۰۴ پکارنے والے کی آواز أعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ پکارنے والے کی آواز ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئیگا انجامکار آسمان بارد نشاں الوقت میگوید زمیں اے سننے والو! آسمان کی آواز تم کو کس طرف بلاتی ہے؟ ماں اپنے بچہ کو نہیں بھلا سکتی تو خدا تعالیٰ اپنے بندے کو کس طرح بھلا سکتا ہے؟ تمہاری مرلیاں اور تمہاری نفیر یاں اور تمہارے سنکھ بہت کچھ شور کر چکے اب اپنے لب بند کرو کہ تمہارا پیدا کرنے والا تمہیں کچھ کہہ رہا ہے۔مبارک۔ہاں مبارک۔اے زمین کے باشندو! کہ آسمان کے دروازے تمہارے لئے کھولے گئے ہیں۔مبارک۔ہاں مبارک۔اے تاریکی میں بسنے والو! کہ روحانیت کا سورج اُفق مشرق سے طلوع ہو رہا ہے وہی امید کا پیغام جو تیرہ سو سال پہلے دیا گیا تھا، آج پھر اس کی منادی کی جارہی ہے وہی تو حید کی تعلیم جو اُس وقت دی گئی تھی، آج پھر اس کا درس دیا جا رہا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت کا دم بھرنے والو! کیا تم اپنے محبوب کی آواز کو نہیں پہچانتے ؟ سنو! وہ حسینوں کا حسین کہ رہا ہے جو میرے نام پر آتا ہے اس کی سنو! اور اس کو میرا سلام پہنچاؤ لے اور اگر تم کو برف کے پہاڑوں پر سے گھٹنوں کے بل چل کر بھی اس کے پاس جانا پڑے تو بھی اس کے پاس پہنچو سے مگر آہ تم نے غور نہیں کیا، تم نے اس کی آواز جو اپنے نام پر نہیں بلکہ اپنے آقا کے نام پر پکارتا تھا نہیں سنی وہ شہروں میں پکارنے والا جنگل میں پکارنے والا ثابت ہوا تا کہ گذشتہ نبیوں کا نوشتہ پورا ہو کہ ” جنگل میں پکارنے والے کی آواز کوسن“ کیا تم نے یہ خیال کر لیا ہے کہ تم ہر عیب سے پاک ہو۔یا تم یہ سمجھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح تمہاری مصیبت کے وقت تمہارے لئے بیکل نہ ہوگی ؟ آہ ! شاید یہ دونوں ہی باتیں تم کو اس