انوارالعلوم (جلد 13) — Page 105
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۰۵ پکارنے والے کی آواز آواز کے سننے سے روک رہی ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر بلند کی جا رہی ہے۔مگر کیا تم اول الذکر خیال سے اپنے متعلق حد سے زیادہ نیک ظنی اور ثانی الذکر سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حد سے زیادہ بدظنی نہیں کر رہے ہو؟ یا درکھو! تاریخ کے ورق اس پر شاہد ہیں کہ آج تک کوئی آسمانی قوم بغیر خدا تعالیٰ کی آواز کے زندہ نہیں کی گئی۔کس نے ہندوؤں کو جب کہ وہ خدا تعالیٰ کے کلام کے حامل تھے اُٹھایا ؟ کرشن رامچند راور بدھ نے یا کسی زمینی لیڈر نے ؟ کس نے یہود کو بیدار کیا ؟ داؤ ڈ الیاس دانی ایل اور مسیح نے یا کسی خود ساختہ رہنمانے ؟ پس یہ خیال مت کرو کہ آسمانی قرناء کے بغیر کوئی زمینی آواز مسلمانوں کو بیدار کر سکتی ہے۔آسمان سے آنے والی روحیں آسمان ہی کی آواز کو سنتی ہیں۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ بقول بعض کے دنیا کے سب سے بڑے آدمی گاندھی جی نے بھی جب اپنی آواز کو بے اثر ہوتے ہوئے دیکھا تو آسمان ہی کی پناہ لی اور یہ اعلان کیا کہ میں خدا کی آواز کی اتباع کر رہا ہوں اس کا الہام مجھے پہنچا اور میرے لئے اس کے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا لیکن تم نے یہ بھی دیکھا کہ وہی گاندھی جی جو سب دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے جب انہوں نے جلد بازی سے اپنے دل کی آواز کو خدا تعالیٰ کی آواز قرار دیا تو کس طرح ان کی آواز بے اثر ہوگئی اور خدا تعالیٰ کی نصرت جو ایک محنتی قومی کارکن کی حیثیت سے ان کے ساتھ ہوا کرتی تھی ان سے فوراً چھین لی گئی اور اب وہ اس انسان کی طرح پھر رہے ہیں جو چاروں طرف تاریکی پاتا ہے اور روشنی کی شعاع اسے کہیں نظر نہیں آتی۔کیا اس واقعہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ گاندھی جی بھی اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس وقت صرف خدا تعالیٰ ہی کی آواز دنیا کو تباہی سے بچا سکتی ہے؟ اور دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کا کلام سننے کا دعوی کرنا معمولی دعوئی نہیں اگر کوئی شخص ایسا جھوٹا دعوی کرے یا اس دعوی میں جلد بازی سے کام لے تو وہ خدا تعالیٰ کی نصرت سے محروم ہو جاتا ہے۔یہ ایک تازہ آسمانی شہادت ہے بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت پر جنہوں نے چالیس سال سے اوپر دنیا میں یہ دعویٰ شائع کیا کہ خدا تعالیٰ ان سے ہمکلام ہوتا ہے اور ہر نیا دن جو چڑھا وہ ان کی ترقی کا موجب ہوا اور نصرت کے نئے سامان ان کے لئے لایا۔یہ کتنا بڑا نشان ہے کہ ایک شخص گمنامی کی حالت میں خدا تعالیٰ سے ہمکلامی کا دعوی کرتا اور روز بروز ترقی کرتا چلا جا رہا ہے اور دوسرا شخص عزت کے