انوارالعلوم (جلد 13) — Page 87
۸۷ انوار العلوم جلد ۱۳ اولاد کو خود قرآن پڑھاؤں گا تا ان کی معرفت تجھے صدقہ جاریہ پہنچتا رہے۔میری ساره مرحومہ ادب کے مقام پر کھڑی تھیں بیوی میاں کے تعلقات ایسے ہیں کہ کبھی نہ کبھی ان میں بعض امور کے متعلق رنجش بھی ہو جاتی ہے۔ممکن ہے کبھی کوئی چھوٹی موٹی رنجش مرحومہ کو بھی مجھ سے ہوئی ہو، ممکن ہے کبھی کسی امر میں انہوں نے کامل فرمانبرداری نہ کی ہو لیکن عام طور پر اُن کا طریق نہایت فرمانبرداری کا تھا۔وہ مجھے تکلیف سے بچانے کیلئے دوسری بیویوں کے مقابل میں خود تکلیف برداشت کر لیتی تھیں اور کبھی اونچی آواز سے یا بے ادبانہ لہجہ میں وہ مجھ سے ہمکلام نہیں ہوئیں۔ادب کا یہ مقام ایسا اعلیٰ تھا کہ اُن کے رشتہ داروں کی طرف سے بھی ہمیشہ مجھ سے ادب کا ہی معاملہ رہا۔میری کوئی بیوی ایسی نہیں جسے میں اس امر میں اُن کے مقابل پر رکھ سکوں۔بعض نے خود اس نظریہ کو نظر انداز کر دیا کہ اُن کا خاوند صرف ان کا خاوند نہیں بلکہ خلیفہ وقت بھی ہے اور یہ کہ ان کی بے ادبی دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی بے ادبی کے احساسات پیدا کر سکتی ہے، بعض کے رشتہ داروں کی حرکات میرے لئے تکلیف کا موجب ہوئی ہیں اور بعض دفعہ تو ایسی سخت کہ دشمن سے دشمن کا فعل ان کے افعال کے مقابل میں حقیر ہو گیا ہے لیکن سارہ بیگم کا اپنا رویہ یا ان کے رشتہ داروں کا رویہ نہایت اعلیٰ اور ہمیشہ مقامِ ادب پر قائم رہنے والا رویہ تھا۔ان کی طرف سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں ہوئی جس میں گستاخانہ یا بے ادبانہ رنگ ہو اور ان کے رشتہ دار کبھی مجھے اپنا عزیر سمجھ کر گستاخ نہیں ہوئے۔وہ مجھے خلیفہ ہی سمجھتے رہے اور اسی رنگ میں انہوں نے مجھ سے ہمیشہ سلوک کیا۔اس خاندان کا یہ فعل ایسا قابلِ قدر ہے کہ میں سمجھتا ہوں انہیں ضرور اس دنیا اور آخرت میں اعلیٰ مدارج پر فائز کرے گا اور ان کی نسلیں اس عمل کا نیک بدلہ پائیں گی۔میر اعلم یہی ہے آگے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔سارہ بیگم کے استاد ماسٹر محمد حسین صاحب کی گواہی بھی اس کے عین مطابق ہے۔وہ لکھتے ہیں۔ایک بات جس نے میرے دل پر گہرا اثر کیا، وہ یہ تھی کہ آپ کی عظمت اور جبروت کے گہرے نقوش وہ اپنے دل پر لئے ہوئے تھیں اور کبھی پڑھنا نہیں شروع کیا جب کہ کسی نہ کسی رنگ میں اس بات کا اثر مجھ پر نہ پڑا ہو کہ ان کو خدا نے وہ نظر تعمق بخشی ہے جس سے انہوں نے حضور کی شخصیت کے عمق کو ناپا ہے اور آپ کی وسعت کا نظارہ کیا ہے اور جب بھی بیماری کی حالت میں انہوں نے پڑھنا تو میں نے کہنا کہ آپ