انوارالعلوم (جلد 13) — Page 86
انوار العلوم جلد ۱۳ ۸۶ میری ساره اُن کے لئے مرہم کا فور ہو جاتا اور میرا ایک دلا سا جام حیات بخش۔میں ایک معیار ان کے لئے تیار کر رہا تھا مگر خدا تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا۔میں انہیں اس آگ میں سے گزارنا چاہتا تھا جس میں سے گزرے بغیر بڑے کام کرنے کی قابلیت پیدا نہیں ہو سکتی۔دنیا شاید مجھے خو دفراموش خاوند تصور کرتی تھی مگر میں ایک معمار تھا جو اپنا قیمتی سامان مینار کی بنیاد میں غرق کرتا چلا جاتا ہے مگر ہم سے بالا ایک ہستی تھی وہ ہم دونوں پر ہنستی تھی وہ کہتی تھی۔اے لوگو! یہ نہ تمہاری ہمدردی کے لئے باقی رہے گی نہ اے خاوند ! تیری بلندیوں کیلئے۔اسے میں نے اپنے لئے چن لیا ہے۔کون ہے جو انکسار کی داد دے، کون ہے جو عاجزوں کو سینے سے لگائے ، میں اور صرف میں۔پس اپنے ہاتھ اس کے کندھوں پر سے ہٹا لو، اس کا راستہ چھوڑ دو، اسے میرے پاس آنے دو وہ میری ہے اور میرے ہی پاس آئے گی۔اے مخلص باپ کی مسکین بیٹی ! خدا کی مجھ پر رحمتیں ہوں تو نے اس دنیا میں لوگوں کیلئے زندگی بسر کی۔خدا تعالیٰ اگلے جہان کو تیرے لئے خوشی کی جگہ بنادے، تیرے گناہ مٹائے جائیں اور تیری نیکیاں بڑھیں۔سارہ بیگم کی ایک پاک خواہش پر قومہ نے جب ایف اے کا امتحان دیا تو میں نے اُن سے کہا کہ اب تم سرے کے قریب پہنچ چکی ہو اللہ تعالیٰ پاس کر دے تو بی۔اے کی تیاری کرو۔شاید اس طرح تم کو زنا نہ سکول میں کام کرنے کا موقع ملے اور سلسلہ کو بغیر مالی بوجھ برداشت کرنے کے ایک ہیڈ مسٹرس مل جائے انہوں نے اس کا ارادہ تو کر لیا لیکن اُن کے ایک استاد ماسٹر محمد حسین صاحب کی روایت ہے کہ مرحومہ کہا کرتی تھیں کہ میں نے آگے تب پڑھنا ہے جب میں حضرت صاحب سے وعدہ لے لوں گی کہ وہ خود مجھے قرآن کریم کی تفسیر پڑھا ئیں۔اے اپنی قربانیوں کا بدلہ قرآن پڑھنے کی صورت میں چاہنے والی ! تیری ایسی پاک خواہش کا صلہ اس قدر حقیر نہ تھا کہ مجھ سا کم علم تجھے قرآن پڑھائے۔جا! تیری اس پاک و بلند خواہش کا صلہ تیرا رب دینا چاہتا ہے، جا اور اُس سے قرآن پڑھ جس نے قرآن اُتارا ہے۔اُس سے زیادہ اس پاک کلام کے معارف کون سکھا سکتا ہے؟ مگر میں بھی تیری اس پاک خواہش کی عزت کرتے ہوئے إِنْشَاءَ اللہ تیرے نام پر قرآن کی کوئی خدمت کروں گا تا تیری خواہش لفظاً بھی پوری ہو اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت مجھے ابھی کچھ عرصہ کیلئے اور اس دنیا میں رکھنا چاہتی ہے تو انشاء اللہ تیری