انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 85

۸۵ انوار العلوم جلد ۱۳ میری ساره میری امتہ الحی کو بھی پڑھنے امتہ الحی اور سارہ بیگم کی خاص خصوصیات اور پڑھانے کا شوق تھا۔لیکن وہ زیادہ محنت نہیں کر سکتی تھیں۔ان کا حافظہ بھی کمزور تھا اس وجہ سے وہ تعلیم کی زبر دست خواہش کے باوجود ایک حد سے او پر علمی ترقی نہیں کر سکیں۔ہاں ان میں علم پڑھانے کا ملکہ اور شوق ساره بیگم سے زیادہ تھا اور وہ سارہ بیگم سے زیادہ ذہین تھیں لیکن سارہ بیگم حافظہ اور استقلال کے لحاظ سے امتہ الحی مرحومہ سے بہت زیادہ تھیں۔امتہ الحی کی مثال ایسی تھی جیسے کوئی پھولوں سے ان کی خوشبو جمع کرتا ہوا چلا جائے۔سارہ بیگم کی مثال ایسی تھی جیسے کوئی صبر سے انتظار کرے اور جب پھولوں میں بیج آجائیں تو وہ ان بیجوں کو جمع کرے تا کہ انہیں دوسرے باغیچوں میں بو کر نئے پھول پیدا کرے۔ایک بجلی کی ایک چمک تھی جود نیا کو روشن کرتی ہوئی چلی جاتی ہے ایک بارش کی باریک پھوار تھی جو زمین کے اندر دھنس کر نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔اول الذکر ان خوش قسمتوں میں سے تھیں جو اپنی چمک سے لوگوں کی توجہ کو کھینچ لیتے ہیں۔ثانی الذکر اُن لوگوں میں سے تھیں جو خاموشی سے اپنا خون درخت کی جڑ میں ڈال دیتے ہیں اور ہمیشہ کیلئے فراموش کر دیئے جاتے ہیں۔اوّل الذکر ایک بڑے باپ کی بیٹی اس کے شاگردوں کے حلقہ میں عزت کے ساتھ زندگی بسر کرنے والی تھی۔ثانی الذکر اپنے وطن سے دُور اپنے جان پہچان لوگوں سے علیحدہ اجنبیوں میں زندگی بسر کرنے کیلئے آئی اور خاکساری سے اُس نے اپنے دن پورے کر دیئے۔ایک کو ناز پر غرور تھا تو دوسری کو نیاز کا سہارا۔ایک سمجھتی تھی میں اس گھر کے لوگوں میں سے ایک ہوں اور ہر جگہ میرے لئے گھلی ہے دوسری خیال کرتی تھی ان لوگوں نے رحم کر کے اپنے گھر کا دروازہ میرے لئے کھولا ہے مجھے یہ جہاں بھی بٹھا ئیں ان کا مجھ پر احسان ہے۔بعض دفعہ گھر کے بعض آدمیوں کی طرف سے اُن کے ساتھ سختی کا برتاؤ ہو جاتا تو میں نے دیکھا ہے وہ نسبتا تحمل کی طرف مائل ہوئیں اور اکثر اس حربہ کو بھی استعمال نہ کرتیں جو قدرت نے عورت کو بخشا ہے یعنی گریہ وزاری سے بھی اپنی طرف توجہ پھر انے کی کوشش نہ کرتیں بلکہ چہرہ سے صبر وتحمل کے آثار ظاہر ہوتے۔میں طبعاً اِس روح کو نہایت محبوب رکھتا ہوں یہ روح میرے نزدیک عارضی تکلیف کا بے شک موجب ہوتی ہے لیکن اس سے اعلیٰ اخلاق کے پیدا ہونے ، ہمت کے بلند ہونے اور مصائب کی برداشت کرنے کی عادت میں بہت مدد ملتی ہے۔ان وجوہ سے میں جان بوجھ کر بھی ایسے موقع پر خاموش رہتا۔اگر کبھی میں تسلی دینا ہی ضروری سمجھتا تو اُس وقت میرا ایک لفظ