انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 66

۶۶ انوار العلوم جلد ۱۳ ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے تو کل پر ہونی چاہئے اور اس کی تائید حاصل ہو جاتی ہے۔پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے تمام کاموں میں للہیت پائی جانی چاہئے۔قربانی چھوٹی ہو یا بڑی اگر للہیت ہوگی تو چھوٹی قربانی بھی بڑی ہو جائے گی اور اگر للہیت نہ ہوگی تو بڑی قربانی بھی کوئی نتیجہ پیدا نہ کر سکے گی۔پس اصل چیز جو برکت کا موجب ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری تمام قربانیاں محض خدا تعالیٰ کی رضا کیلئے ہوں۔اگر ہم یہ مقصد لے کر کھڑے ہو جائیں تو دنیا سے تمام لڑائیاں اور جھگڑے فتنے اور فساد دور ہو جائیں اور بہت سی خلشیں جو امن سے محروم کر دیتی ہیں ناپید ہو جائیں کیونکہ جب کو ئی شخص خدا کیلئے کام کرتا ہے اسی وقت اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے۔وہ بندوں کی تعریف کا مشتاق نہیں ہوتا بلکہ اگر کوئی کرے تو شرمندہ ہو جاتا ہے اور دل میں کہتا ہے کہ جس کی خاطر میں نے کام کیا تھا، اگر وہ خاموش ہے تو ان لوگوں کی تعریف سے مجھے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارے تمام کارکنوں کو یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ وہ افسر اور ماتحت ناظر اور محرر کے امتیاز کو تمدنی معاملات میں نہ لے جائیں اور سمجھ لیں کہ ہم سب کا اصل مقصد یہ ہے کہ متحدہ طور پر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کریں۔اس کے بعد میں دعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان بھائیوں کی خدمت کو قبول فرمائے جنہوں نے یہ دعوت کی اور انہیں نیک اجر دے کیونکہ انہوں نے اپنے ایک بھائی کی آمد پر خوشی منائی۔اس طرح میں خاں صاحب کیلئے دعا کرتا ہوں کہ جو خدمات وہ بجا لائے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بدلہ میں انکے دل میں اور زیادہ نیکی اور تقویٰ پیدا کرے کہ مومن کا یہی اجر ہے۔مومن کا وہ اجر نہیں جو ا سے دنیا سے ملے بلکہ اصل اجر وہ ہے جو اسے اللہ تعالیٰ عطا فرمائے۔اس طرح دوسرے مبلغ جو میدان میں ہیں۔ان کے لئے بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کامیاب کرے اور ان کے دلوں میں اپنی محبت پیدا کرتے ہوئے سلسلہ اور اسلام کی خدمات کی پہلے سے زیادہ تو فیق عطا فرمائے۔الفضل و مئی ۱۹۳۳ء ) لبخارى كتاب الاحكام باب قول الله تعالى أَطِيعُوا الله واَطِيْعُوا الرسول الحديد : ۴ المجادلة٢٣