انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 65

انوار العلوم جلد ۱۳ ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے تو کل پر ہونی چاہئے رضا کیلئے کرتے ہیں یہ وہ امتیاز ہے جو ہم میں اور دوسروں میں ہے اور یہی وہ امتیاز ہے جس کی وجہ سے ہمارا تھوڑا کام بھی دوسروں سے زیادہ بہتر نتیجہ پیدا کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ ہے ایک شخص مسلمانوں کی طرف سے کفار سے جنگ کر رہا تھا۔صحابہ کہتے ہیں وہ اس قدر سرگرمی سے جنگ میں مصروف تھا کہ ہمیں رشک آتا تھا اتنے میں ایک صحابی نے دوسرے سے کہا دیکھو یہ کیسا جنتی آدمی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں بھی یہ آواز پہنچ گئی آپ نے فرمایا اگر کسی نے دنیا کے پردے پر دوزخی چلتا پھرتا دیکھنا ہوتو وہ اس لڑنے والے کو دیکھ لے۔چونکہ مسلمانوں کی ظاہری طور پر وہ بہت حمایت کر رہا تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات سے صحابہ کے دلوں میں تزلزل پیدا ہوا اور انہوں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اسلام کے لئے اتنی قربانی کرے اور پھر بھی وہ درزخ میں جائے۔ایک صحابی کہتے ہیں جب لوگوں کے دلوں میں میں نے یہ وسوسہ پیدا ہوتے دیکھا تو میں نے کہا خدا کی قسم! میں اس شخص کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لوں۔وہ صحابی کہتے ہیں میں اس کے پیچھے پیچھے رہا یہاں تک کہ وہ اس جنگ میں شدید زخمی ہوا۔آخری وقت سمجھ کر لوگ اس کے پاس آتے اور کہتے۔تمہیں جنت کی بشارت ہو مگر وہ کہتا مجھے جنت کی کیوں خبر دیتے ہو دوزخ کی خبر دو کیونکہ میں نے آج اسلام کیلئے جنگ نہیں کی بلکہ ان کفار سے مجھے کوئی پرانا بغض تھا اس کا بدلہ لینے کیلئے میں ان سے لڑا۔پھر اس کی حالت جب زیادہ خراب ہو گئی تو اس نے برچھی زمین پر گاڑی اور اس پر گر کر خود کشی کر لی۔وہ صحابی کہتے ہیں میں آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں بیٹھے تھے میں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے رسول ہیں۔آپ نے فرمایا کیوں کیا ہوا ؟ اس صحابی نے تمام داستان سنائی تب آپ نے بھی فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اس کا رسول ہوں۔تو ظاہری قربانیاں اگر دیکھی جائیں تو دنیا میں ہم سے زیادہ قربانیاں کرنے والے موجود ہیں گو بحیثیت قوم ہمیں امتیاز حاصل ہے مگر افراد کے لحاظ سے زیادہ قربانیاں کرنے والے مل سکتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ان کی تمام قربانیاں قوم یا ملک کے لئے ہوتی ہیں یا اس مذہب کے لئے ہوتی ہیں جسے وہ قوم کی طرح سمجھتے ہیں مگر ہم میں سے ہر شخص کی نیت یہ ہوتی ہے کہ اس کام کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے اور جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال انسانی نیت پر موقوف ہوتے ہیں۔چونکہ ہمارے کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی رضا پر ہے اس لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا