انوارالعلوم (جلد 13) — Page 5
انوار العلوم جلد ۱۳ ♡ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف جو نہایت ہی دلچسپ ہے کہنے لگا ۔ ( میں اکلا ہی لوکاں دی گالیاں تے ماردا مزا اٹھا نداں ہاں ) اور اُس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ واقعی اُسے ان تکالیف میں مزا آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ سے کا دعویٰ کرنا اور پھر گالیوں اور لوگوں کی مار سے ڈرنا یہ دونوں باتیں جمع جمع نہ نہیں ہو سکتیں ۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی صحابہؓ حسرت سے کہا کرتے تھے کہ وہ دن کیسے اچھے اور با برکت تھے جب ہم دشمنوں سے ماریں کھایا کرتے تھے۔ سے محبت ہم میں سے ہر ہر شخص اگر اس کی اولا د نہیں تو کبھی وہ بیٹا ضرور رہا ہے۔ ہم خوب سمجھ سکتے ہیں کہ ماں باپ کی محبت کا بڑا مظاہرہ اُس وقت ہوتا ہے جب اُن کے بچہ کوکوئی شخص پیٹے یا اُسے دُکھ اور تکلیف پہنچائے یا وہ بیمار ہو جائے ۔ اس طرح جب اللہ تعالیٰ کے بندوں کو دوسرے بندے دکھ دیتے ہیں تو جس طرح ماں باپ اپنے بچوں سے لپٹ جاتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اس بندے سے لپٹ جاتا ہے ۔ اُس کے ہاتھ ہمیں نظر نہیں آتے مگر اُس کی محبت ہمیں نظر آتی ہے ۔ بے شک وہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْئ ہے اور نہ اُس کے ہاتھ ہیں نہ پاؤں لیکن جس محبت کے ساتھ وہ اپنے بندے کی طرف جھکتا ہے اس سے زیادہ شاندار محبت کا مظاہرہ دنیا کا کوئی ماں باپ نہیں کر سکتا ۔ یی بدر کی جنگ میں ایک عورت کا بچہ گم ہو گیا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جنگ کے بعد وہ گھبرائی ہوئی پھرتی ، کبھی ادھر جاتی اور کبھی اُدھر ، آخر تلاش کرتے کرتے اُسے اُس کا بچہ مل گیا، وہ اُسے اپنی چھاتی سے لگا کر ایک طرف بیٹھ گئی ، اُس کے چہرہ سے خوشی کے آنسو اور اطمینان کے آثار ظاہر ہوئے ، تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا۔ اس عورت کی طرف دیکھو یہ کس طرح گھبرائی ہوئی پھرتی تھی اور اب اسے بچہ ملنے کے بعد کیسا اطمینان ہو گیا۔ پھر آپ نے فرمایا۔ اس ماں کو اپنا بچہ ملنے سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اللہ تعالیٰ کو اُس وقت ہوتی ہے جب گنہگار بندہ اُس کے حضور تو بہ کرتا ہے ۔ شے غرض یا د رکھو مذہب عشق کا نام ہے ۔ اگر عشق نہیں تو فلسفیانہ خیالات ہمیں کبھی تسلی نہیں دلا سکتے ۔ ہمیں چُپ کرانے اور اطمینان دلانے والا دماغ نہیں بلکہ دل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ قرآن مجید دل کو دماغ پر مقدم کرتا ہے اور دل کو ہی انوار الہیہ کا مہبط قرار دیتا ہے۔ عشق کی ٹیس جو دل میں پڑتی ہے اسے ہر شخص محسوس کرتا ہے خواہ وہ اللہ تعالیٰ کا عشق ہوا اور خواہ دنیا میں سے اولاد کی محبت یا بیوی بچوں کی محبت یا دوستوں اور عزیزوں کی محبت ۔ سائنسدان کہتے ہیں یہ