انوارالعلوم (جلد 13) — Page 52
۵۲ انوار العلوم جلد ۱۳ صداقت معلوم کرنے کا طریق ہیں، ان میں سے کوئی یہ نہ کہے گا، خواہ وہ یہ کہے کہ آپ کو غلطی لگی۔اس لحاظ سے آپ کے دعوی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔جب ان کی بات بڑ نہ تھی تو سوال یہ ہے کہ جب انہوں نے کہا ، مجھے خدا نے یہ بات کہی ہے تو کیوں نہ خدا سے اس کے متعلق پوچھنے کی کوشش کی جائے اس کے لئے خود حضرت مرزا صاحب نے بار بار کہا ہے اور اس کا جو طریق آپ نے پیش فرمایا ہے وہ اس وقت میں آپ صاحبان کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خواہ کوئی آریہ ہو یا سنا تنی ، سکھ ہو یا عیسائی ، خدا کو تو سب مانتے ہیں۔خدا سے دعا کرے کہ میں تجھے جس رنگ میں سمجھتا ہوں، تجھ سے التجاء کرتا ہوں کہ مرز اصاحب جو یہ کہتے ہیں کہ خدا نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں لوگوں کوحق وصداقت کے مرکز پر جمع کر دوں اور وہ مرکز اسلام ہے تو مجھ پر کھول دے کہ یہ صیح کہتے ہیں یا غلط۔اگر صحیح کہتے ہیں تو مجھے اس سے محروم نہ رکھ اور اگر غلط کہتے ہیں تو مجھے اس سے بچا۔یہ ایسی بات ہے جس میں کوئی دھوکا نہیں ہو سکتا اور نہ ایسی بات ہے جس کے اختیار کرنے میں کسی کو کوئی اعتراض ہونا چاہئے۔حضرت مرزا صاحب نے خود اسے پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بارے میں خدا سے دعا کرو اور میں اپنے لئے بھی کرتا ہوں۔چنانچہ خدا تعالیٰ سے عرض کیا:۔اے قدیر و خالق ارض و سما اے رحیم و مہربان و راہنما اے کہ میداری تو بر دلها نظر اے کہ از تو نیست چیزے منتر ے بینی بینی مرا پیر فق تو دید استی که هستم بد کن و گر تو پاره پاره من بدکار را شاد کن ایں زمرہ اغیار را تش فشاں پر درو دیوار من دشنم باش تباہ کن کار من و یہ اپنے لئے اپنی اولاد کیلئے اور سلسلہ کے لئے کہا ہے، ایک بار نہیں کئی بار۔مگر دوسروں سے کہا ہے میں یہ نہیں چاہتا کہ تم اپنے لئے بددعا کرو بلکہ یہ کہتا ہوں کہ دعائیں کرو کہ الہی ! ہم اس