انوارالعلوم (جلد 13) — Page 53
انوار العلوم جلد ۱۳ ۵۳ صداقت معلوم کرنے کا طریق بارے میں فیصلہ نہیں کر سکتے تو ہماری التجا سن اور ہمیں بتا کہ حق کیا ہے۔اس زمانہ میں اکثر لوگ الہام ، وحی اور کشف کے قائل نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی تمام باتیں دماغی عارضہ کا نتیجہ ہوتی ہیں۔مگر دوسرے کے متعلق تو یہ کہنا آسان ہے اپنے متعلق کوئی یہ نہیں کہہ سکتا جب خدا اسے دکھا دے گا تو اسے پتہ لگ جائے گا کہ جو کچھ اسے بتایا گیا ہے، وہ خدا ہی کی طرف سے ہے۔میں اس وقت اتنی بات ہی کہتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ساری باتیں اس میں آ جاتی ہیں۔سال بھر کوئی شخص مباحثات کرتا رہے پھر بھی ممکن ہے کہ غلطی لگ جائے لیکن اگر کوئی سچی خواہش اور صاف دل کے ساتھ دس دن بھی خدا تعالیٰ سے پڑ اڑ تھنا کرے کہ میں بھی تیرا بندہ ہوں تو مجھ پر حق کھول دے تو اسے حق مل جائے گا۔میں گیارہ سال کا تھا جب میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ الہی کیا میں اس لئے احمدی ہوں کہ میرے باپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔اگر مجھ پر تیری طرف سے یہ ظاہر کیا جائے کہ یہ سلسلہ سچا نہیں تو (اس وقت میں صحن میں کھڑا تھا ) میں اندر نہیں جاؤں گا بلکہ اس گھر سے باہر نکل جاؤں گا۔خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلہ میں ماں باپ کا تعلق کیا حقیقت رکھتا ہے۔پھر اس سے بڑھ کر خدا کی بے قدری اور کیا ہوسکتی ہے کہ کسی بات کو اس لئے مانیں کہ ہمارے ماں باپ اسے مانتے ہیں اور ماں باپ کے مقابلہ میں خدا کو چھوڑ دیں۔انسان کا اصلی تعلق خدا سے ہی ہونا چاہئے اور خدا تعالیٰ سے ہی کہنا چاہئے کہ جو تیرے نزدیک حق ہے اسے ہم اختیار کریں گے اور جو تیرے نزدیک باطل ہے اسے ہم چھوڑ دیں گے۔جب بندہ اس نیت اور ارادہ سے خدا تعالیٰ کے آگے گرتا ہے تو اس پر ضرور حق کھولا جاتا ہے۔ایک دہریہ کی بات مجھے بہت پسند آئی۔وہ لکھتا ہے ہم لوگ خدا کے منکر نہیں مگر ہمارے سامنے خدا کو ماننے کے لئے کوئی دلیل نہیں۔پھر لکھتا ہے۔میں زیادہ نہیں صرف ایک دلیل مانگتا ہوں اور وہ یہ کہ میں کنوئیں میں گرنے لگوں تو میرے ماں باپ دیکھ کر مجھے بچانے کی کوشش کریں گے، میں بیمار ہو جاؤں تو ماں باپ میرا علاج کریں گے اور جبراً بھی مجھے دوائی پلائیں گے مگر یہ عجیب خدا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ سب کچھ اس نے پیدا کیا ہے اور ہر چیز پر اس کا قبضہ ہے مگر میں بچے مذہب کی شناخت سے محروم ہو کر گمراہی کے گڑھے میں پڑا ہوں اور وہ میرے بچانے کیلئے کچھ نہیں کرتا۔اگر کوئی خدا ہے تو اسے اپنے بندوں سے ماں باپ سے زیادہ محبت ہونی چاہئے تو پھر وہ کیوں اپنی محبت ظاہر نہیں کرتا۔پھر کہتا ہے مجھے پادری یہ جواب دیں گے کہ تو گندہ اور نا پاک ہے، اس وجہ سے خدا تیری طرف توجہ نہیں کرتا۔بے شک میں ایسا ہی ہوں اور اسی وجہ