انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 51

انوار العلوم جلد ۱۳ ۵۱ صداقت معلوم کرنے کا طریق دعویٰ یہ نہ تھا کہ آپ نے سوچ سوچ کر کوئی نیا قانون نیا فلسفہ یا کوئی نئی چیز نکالی ہے۔ اگر یہ دعویٰ ہوتا تو آپ بھی کہہ سکتے ہیں کہ آؤ ہم بھی سوچ کر کوئی نئی بات نکالیں بلکہ ان کا دعوی یہ تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے دنیا کو ایک مرکز پر جمع کرنے اور راستی پر قائم کرنے کے لئے بھیجا ہے اور وہ راستی اسلام ہے۔ اب یہ موٹی بات ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ فلاں نے مجھ سے یہ بات کہی ہے تو اس بات کی تصدیق کرنے کے لئے اسی سے پوچھتے ہیں کہ اس نے یہ بات کہی ہے یا نہیں ۔ اگر وہ کہدے کہ میں نے کہی ہے تو اسے درست مان لیا جاتا ہے۔ جب حضرت مرزا صاحب کا یہ دعوی ہے کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ جا اور جا کر دنیا کو ایک مرکز پر جمع کر اور وہ مرکز اسلام ہے تو یہ کوئی معمولی دعوی نہیں بلکہ بہت بڑا دعولٰی ہے ۔ ایک ایسے گاؤں میں جہاں اس وقت نہ ڈاک خانہ تھا نہ تار گھر ، نہ پریس تھا اور نہ کوئی اور چیز، آپ نے اتنا بڑا دعویٰ کیا جو بڑے بڑے شہروں میں رہنے والے بھی نہیں کر سکتے بلکہ بڑی بڑی حکومتوں والے بھی نہیں کر سکتے ۔ انگلستان کی حکومت کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا مگر اس کے بادشاہ کی بھی مجال نہیں کہ ایسا دعوی کر سکے ۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس امریکہ کو اپنی شان و شوکت اور طاقت و عظمت کا بڑا دعوی ہے۔ حتی کہ ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں کہ انگریز بھی اس سے دیتے نظر آتے ہیں۔ مگر ان کا پریذیڈنٹ بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا جو حضرت مرزا صاحب نے کیا ہے۔ تو یہ کوئی معمولی دعویٰ نہیں بلکہ اتنا بڑا دعویٰ ہے کہ کوئی بڑی سے بڑی حکومت ہی نہیں بلکہ دنیا کی ساری حکومتیں مل کر بھی ایسا دعوی نہیں کر سکتیں کیونکہ دنیا کو ایک مرکز پر جمع کرنا کوئی معمولی بات نہیں ۔ ہندوستان میں ہی دیکھ لو، سیاسی لحاظ سے کتنے مختلف خیالات کے لوگ ہیں ۔ انگریز ان کو ایک سیاسی مرکز پر جمع کرنا چاہتے ہیں مگر با وجود طاقت اور ساز و سامان کے کچھ نہیں کر سکتے ۔ اب غور کرو ، حضرت مرزا صاحب کا اتنا بڑا جو دعویٰی ہے اور ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ جب ان کی زندگی یہاں ہی گزری ہے ۔ آپ باہر مجلس میں بیٹھتے اور لوگوں سے ملتے تھے۔ اب تو دفتری کاموں کی ایسی نوعیت ہو گئی ہے کہ مجھے اپنا بہت سا وقت ان میں صرف کرنا پڑتا ہے۔ ابھی ایک دوست نے کہا کہ آپ تو ملتے ہی نہیں مگر حضرت مرزا صاحب بکثرت لوگوں سے ملتے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی آپ کے دعوی کو سچا نہ سمجھے مگر آپ میں سے جنہوں نے حضرت مرزا صاحب کو دیکھا ہے کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی زندگی ایسی تھی کہ آپ نے یونہی بڑ مار دی۔ یہاں کے جو ہندو سکھ اور مسلمان آپ کی زندگی سے واقف