انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 493

انوار العلوم جلد ۱۳ 493 کہ وہ اسلام کو اس طرح بدنام نہ کریں کیونکہ یہ دونوں باتیں صریح جھوٹ ہیں۔یہ بات بالکل غلط ہے کہ چونکہ احرار کو قادیان میں کانفرنس کرنے سے روک دیا گیا تھا، اس لئے میں نے احرار کو مباہلہ کا چیلنج دینا شروع کر دیا۔میرا مباہلہ کا چینج لاہور یا گورداسپور کے لئے تھا۔اگر میں نے اس ممانعت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے چیلنج دیا ہوتا تو میں قادیان آنے کا چیلنج دیتا نہ کہ لاہور یا گورداسپور کا۔دوسری بات بھی یعنی یہ کہ احرار نے قادیان آنے کا ارداہ ترک کر دیا تھا مگر جب میں نے ان کو چیلنج دیا کہ وہ قادیان آ کر مباہلہ کریں تو مجبوراً انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا ویسی ہی جھوٹ ہے جیسی کہ پہلی بات۔انہوں نے ہرگز میرے چیلنج پر مجبور ہو کر قادیان آنے کا ارادہ نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں قادیان میں مباہلہ کروں۔چنانچه ۲ اکتوبر ۱۹۳۵ء کے مجاہد میں مظہر علی صاحب اظہر کی جو تقریر شائع ہوئی ہے اس کا عنوان یہ ہے۔" " مرزا محمود کی دعوت مباہلہ کا کیفیت موت طاری کر دینے والا جواب مباہلہ قادیان میں ہونا چاہئے۔مرد ہو تو بال بچوں سمیت میدان میں نکل آؤ۔“ پھر اصل اعلان میں یہ فقرہ درج ہے۔ہم مرزا محمود کو کوئی موقع نہیں دینگے کہ وہ مباہلہ سے پہلو تہی کر سکے ہاں یہ ضرور ہو گا کہ مباہلہ قادیان میں ہو۔(مجاہد ۲ اکتوبر ۱۹۳۵ ء ) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ میرے مجبور کرنے پر انہوں نے قادیان آنا منظور نہیں کیا۔بلکہ خودانہوں نے اپنی طرف سے یہ شرط لگائی کہ وہ صرف قادیان میں مباہلہ کر سکتے ہیں باہر نہیں۔اس کے بعد احرار کا حکومت کو یہ لکھنا کہ ہم تو قادیان نہ جاتے تھے مرزا محمود نے ہمیں مجبور کر کے قادیان بلایا ہے، کیا کسی عقلمند انسان کے نزدیک بھی درست ہو سکتا ہے؟ اور کیا یہ فعل دیانت داری کا فعل سمجھا جا سکتا ہے؟ میں مذکورہ بالا دونوں امور کے لئے بھی سوسور و پیہ مزیدا نعام مقرر کرتا ہوں کہ (۱) اگر میرے اعلانات سے یہ نتیجہ نکل سکے کہ میں نے مباہلہ کا چیلنج اس لئے دیا تھا کہ احرار کو قادیان آنے کی ممانعت تھی یا (۲) یہ ثابت ہو جائے کہ احرار تو قادیان آنے کو تیار نہ تھے مگر میں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ضرور قادیان آ کر ہی مباہلہ کریں تو سوسو روپیہ مزید انعام ان دونوں باتوں کے ثابت ہونے پر مجلس احرار کو جماعت احمدیہ کی طرف سے دیا جائے گا۔اور اس انعام کے تصفیہ کے