انوارالعلوم (جلد 13) — Page 478
انوار العلوم جلد ۱۳ 478 جائے گا کہ خدا تعالیٰ نے اس قوم کو مباہلہ سے بھی پہلے پکڑ لیا ہے۔ورنہ دس پندرہ فی صدی کی اتنی تعداد ہے کہ عام حالات میں اس قدر آدمیوں کا ایسے اہم کام کے لئے پختہ وعدہ کر کے نہ پہنچ سکنا ایک خلاف عقل بات ہے۔اور یا تو وہ لوگ عذاب الہی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس حد تک معذور ہو جائیں گے۔یا پھر یہ سمجھا جائے گا کہ دین کے لئے قربانی کرنے کا ان میں مادہ ہی نہیں۔اور یہ خون ان کے باطل پر ہونے کا ایک ثبوت ہوگا۔شائد اظہر صاحب کو اپنا پہلا فقرہ یاد نہیں رہا۔اسی لئے وہ ساتھ یہ فقرہ بھی لکھ گئے ہیں کہ ”ہم اپنی طرف سے ان کی ہزار کی شرط کو بھی منظور کر چکے ہیں۔( مجاہد ۵ نومبر صفحہ ۷ ) یہ عجیب لطیفہ ہے۔کہ اپنی نسبت تو وہ لکھتے ہیں کہ پانچ سو یا ہزار کی شرط مرزا محمود کی عائد کردہ ہے۔ہمارے نمائندے ہزار سے بھی بہت زیادہ ہوں گے۔اور ہماری نسبت لکھتے ہیں کہ ہم انہیں پانچ سو یا ہزار کا پابند نہیں کرتے بلکہ جس قدر آدمی ان کو مل سکیں۔وہ لے آئیں جب دونوں فریق کو ہی انہوں نے اس شرط سے آزاد کر دیا۔تو اس فقرہ کے معنی ہی کیا ہوئے کہ اپنی طرف سے ہم ان کی ہزار کی شرط کو بھی منظور کر چکے ہیں۔انہیں تو یہ لکھنا چاہیئے تھا کہ ہم اس شرط کو دونوں فریق پر سے اڑا چکے ہیں۔احرار کا تاریخ مباہلہ مقرر کرنا میں نے اعتراض کیا تھا کہ احرار کو ۱۳ نومبر کی تاریخ مقرر کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ان کے اس اعلان کے بعد کہ انہیں میری سب شرائط منظور ہیں، میرے شائع کردہ اعلان کی روشنی میں یا تو تاریخ مقرر کرنے کا حق مجھے حاصل ہے یا دونوں فریق کو مجموعی طور پر۔اس پر مسٹر مظہر علی صاحب اظہر لکھتے ہیں کہ شائد مرزا صاحب کو بھول گیا ہے۔کہ وہ اپنے خطبہ مطبوعہ ۱۸۔اکتوبر میں کہہ چکے ہیں کہ:۔خدا تعالیٰ نے ان (احرار ) کی گردن پکڑی ہے، اس لئے کسی کو سامنے آنے کی جرات نہیں ہوئی۔اگر ہمت ہے تو سب کے سب آئیں۔“ اول تو اس فقرہ میں تحریف ہے۔لیکن اسے درست سمجھ کر بھی میں ہر اردو دان شخص سے پوچھتا ہوں کہ کیا اردو سے مس رکھنے والا شخص اس عبارت کے وہ معنی کر سکتا ہے جو اظہر صاحب نے کئے ہیں۔میں نے یہ فقرہ اس موقعہ پر استعمال کیا تھا کہ احرار باقاعدہ سب لیڈروں کی طرف سے مباہلہ کو منظور کرنے کی بجائے ایک شخص کو قادیان بھیج دیتے ہیں جو اپنی طرف سے