انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 479

انوار العلوم جلد ۳ 479 ایک اعلان کر دیتا ہے۔کیوں نہیں سب کے سب جو میرے مخاطب ہیں اس کی منظوری کا اعلان کرتے۔اس سے تاریخ کا تعیین کا حق احرار کو کہاں سے ملا۔احرار کی دھینگا مشتی لطیف یہ ہے کہ میرے جس خطبہ سے یہ فقرہ چنا گیا ہے اس کے آخر میں میرا یہ فقرہ بھی موجود ہے کہ :۔” جب نہ کوئی تاریخ مقرر ہوئی ہے نہ شرائط طے ہوئے ہیں تو احمدی فرار کیسے کر گئے۔فرار تو تب ہے کہ شرائط طے ہو جائیں وقت مقرر ہو جائے اور پھر ایک (الفضل ۸ اکتوبر ) فریق نہ آئے“ اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ میرے نزدیک شرائط کا طے ہونا اور اس کے بعد وقت کا مقر ر کیا جانا دونوں فریق کے اختیار میں رکھا گیا ہے نہ کہ احرار کو اختیار دیا گیا ہے کہ جو چاہو شرط پیش کر دو اور جو چاہو وقت مقرر کر دو۔جب میرے نزدیک اب تک شرائط ہی طے نہیں ہوئیں تو میں تاریخ سے کس طرح اتفاق کر سکتا ہوں۔اسی طرح میرے خطبہ مطبوعہ ۶۔اکتوبر میں لکھا ہے:۔” جو شرائط احرار پیش کرنا چاہتے ہیں وہ پیش کریں تا کہ جلد سے جلد مباہلہ کی تاریخ اور مقام کی تعیین کا اعلان کیا جا سکے۔“ ان فقرات کی موجودگی میں اور بغیر اس کے کہ زبان ان معنوں کی اجازت دیتی ہو جو میرے مذکورہ بالا فقرہ سے مسٹر مظہر علی صاحب اظہر نے نکالے ہیں، احرار کے لئے یہ حق نکال لینا کہ وہ جو تاریخ چاہیں مقرر کر دیں، معقولیت نہیں بلکہ دھینگا مشتی ہے۔احرار کی ٹال مٹول کی وجہ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ احرار کا اس قسم کی ٹال مٹول سے مطلب کیا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ احرار کو اس سال قادیان میں کا نفرنس کرنے سے حکومت نے روک دیا تھا۔جب انہوں نے میرا چینج مباہلہ پڑھا تو انہوں نے سوچا کہ مباہلہ تو خیر دیکھا جائے گا۔اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر ہم حکومت سے برسر پیکار ہوئے بغیر قادیان میں کا نفرنس کرلیں گے۔کیونکہ مباہلہ کا چیلنج جماعت احمدیہ کی طرف سے ہے اور ان کے بلانے پر جائیں گے، حکومت ہم کو روکے گی نہیں۔چنانچہ یہ امر دل میں رکھ کر انہوں نے فیصلہ کیا کہ بغیر اس کے کہ شرائط تحریر طے نہ ہوئی ہونگی اور کئی باتیں