انوارالعلوم (جلد 13) — Page 465
465 انوار العلوم جلد ۱۳ زلزلہ کوئٹہ بانی سلسلہ احمدیہ کی سچائی کا نشان ہے وقت بہار بتایا گیا ہے اور بہار کا وقت شمالی علاقوں کے لئے یکم جنوری سے ۳۱۔مئی تک ہوتا ہے۔یعنی گرم علاقوں میں پہلے شروع ہوتا اور جلد ختم ہو جاتا ہے اور سرد علاقوں میں بعد میں شروع ہوتا اور دیر میں ختم ہوتا ہے۔اور تعیین بہار کے موسم کی خود بانی سلسلہ احمدیہ نے کر دی تھی اور اپنی کتاب الوصیت بار ہفتم کے صفحہ ۱۵ پر لکھا تھا کہ بہار کا موسم جنوری کی ابتداء سے مئی کے آخر تک ہے۔چنانچہ اسی کے ماتحت بہار میں جو گرم علاقہ ہے زلزلہ ۱۶۔جنوری کو آیا اور کوئٹہ میں جو پہاڑی علاقہ ہے اور جہاں بوجہ سردی شگوفہ دیر میں نکلتا ہے عین ۳۱۔مئی کو ، بانی سلسلہ احمدیہ کے کہنے کے مطابق جو بہار کا آخری دن ہے زلزلہ آیا۔اب اے سوچنے والو سوچو اور غور کرنے والو غور کرو کہ کیا یہ قہری نشان ایسا نہیں کہ تمہارے دلوں میں خدا کا خوف پیدا کرے۔آخر سوچو تو سہی کہ کیا ایک کا ذب کیلئے اللہ تعالیٰ ایسے نشان دکھا سکتا ہے؟ خدا تو کاذب کو شرمندہ کرتا ہے اور اس کے جھوٹ کو ظاہر کرتا ہے مگر یہاں یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ نشان پر نشان دکھاتا چلا جاتا ہے اور عذاب پر عذاب لاتا چلا جاتا ہے۔کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ لوگ غور کریں اور خدا تعالیٰ کے مامور کو قبول کر کے اس کے عذاب سے محفوظ ہوں اور اس کے فضلوں کے وارث ہوں؟ میں دیکھتا ہوں کہ احراری لیکچرار اور اخبار لوگوں کو یہ کہہ کر دھوکا دے رہے ہیں کہ زلزلوں کی خبر تو قرآن کریم میں موجود ہے پھر یہ مرزا صاحب کی پیشگوئی کیونکر ہوئی ؟ مگر یہ نادان نہیں سمجھتے کہ قرآن کریم میں تو یہ پیشگوئی تیرہ سو سال سے موجود تھی پھر تیرہ سو سال میں کیوں نہ کسی نے اس پیشگوئی کو اپنی صداقت کے نشان کے طور پر پیش کیا ؟ بانی سلسلہ احمدیہ کا زلزلوں کی خبر دینا اور دعویٰ کرنا کہ قرآن کریم کی پیشگوئی میرے ہی زمانہ کے متعلق تھی یہ تو اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ ہی قرآنی موعود ہیں۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ اُدھر بانی سلسلہ علیہ السلام زلزلوں کی خبر دیتے ہیں اور ادھر قرآن کریم کی پیشگوئی پوری ہونی شروع ہو جاتی ہے۔کیا یہ کھلا ثبوت نہیں اس امر کا کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا خدا ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجنے والا ہے؟ چنانچہ جب قرآنی پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آ گیا تو اس نے اپنے ما مور کو بتا دیا کہ اب اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا زمانہ شروع ہونے والا ہے۔دوسرے اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم سے صرف نقل کر کے اس پیشگوئی کو شائع کر دیا تھا اور آپ کو الہاماً اس کے وقت سے خبر نہیں دی گئی تھی تو سوال یہ ہے کہ آپ تو