انوارالعلوم (جلد 13) — Page 457
457 انوار العلوم جلد ۱۳ ڈاکٹر سر محمد اقبال اور احمد یہ جماعہ طور پر پیش کرتے ہیں لیکن اسلامی ممالک میں اس کی حیثیت ایک کامل ظہور کی بتاتے ہیں، وہ اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ مل کر نمازیں پڑھ لیتے ہیں، ویسا ہی وضو کرتے ہیں اور اتنی ہی رکعتیں پڑھتے ہیں جتنی کہ مسلمان لیکن الگ طور پر وہ صرف تین نمازوں کے قائل ہیں اور ان کے ہاں نماز پڑھنے کا طریق بھی اسلام سے مختلف ہے۔پھر یہ بھی درست نہیں کہ احمدی منافق ہیں اور لوگوں سے اپنے عقائد چھپاتے ہیں۔اگر احمدی مداہنت سے کام لیتے تو آج سر محمد اقبال کو اس قد ر ا ظہا ر غصہ کی ضرورت ہی کیوں ہوتی۔احمدی ہندوستان کے ہر گوشہ میں رہتے ہیں، دوسرے فرقوں کے لاکھوں کروڑوں مسلمان ان کے حالات سے واقف ہیں، وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والے رسول کریم ﷺ کی بتائی ہوئی نماز کے مطابق نماز پڑھنے والے روزے رکھنے والے حج کرنے والے اور زکوۃ دینے والے ہیں۔وہ کونسی بات ہے جو احمدی چھپاتے ہیں؟ اور سرمحمد اقبال کے پاس وہ کونسا ذریعہ ہے جس سے انہوں نے یہ معلوم کیا کہ احمدیوں کے دل میں کچھ اور ہے مگر ظا ہر وہ کچھ اور کرتے ہیں۔رسول کریم ﷺ تو اس قدرمحتاط تھے کہ جب ایک صحابی نے ایک شخص کو جس نے جنگ میں عین اس وقت کلمہ پڑھا تھا جب وہ اسے قتل کرنے لگے تھے قتل کر دیا اور عذر یہ رکھا کہ اس نے ڈر سے کلمہ پڑھا ہے تو آپ نے فرمایا کہ هَلْ شَقَقْتَ قَلْبَہ سے کیا تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا ہے۔لیکن ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب آج دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ قوم جس کے افراد نے افغانستان میں اپنے عقائد چھپانے پسند نہ کئے لیکن جان دے دی ساری کی ساری منافق ہے اور ظاہر کچھ اور کہتی ہے اور اس کے دل میں کچھ اور ہے۔اگر یہ الزام کوئی ایسا شخص لگاتا جسے احمدیوں سے واسطہ نہ پڑا ہوتا تو میں اسے معذور سمجھ لیتا لیکن سر محمد اقبال معذور نہیں کہلا سکتے۔ان کے والد صاحب مرحوم احمدی تھے۔ان کے بڑے بھائی صاحب شیخ عطا محمد صاحب احمدی ہیں، ان کے اکلوتے بھتیجے شیخ محمد اعجاز احمد صاحب سب حج احمدی ہیں، اسی طرح ان کے خاندان کے اور کئی افراد احمدی ہیں۔ان کے بڑے بھائی صاحب حال ہی میں کئی ماہ ان کے پاس رہے ہیں بلکہ جس وقت انہوں نے یہ اعلان شائع کیا ہے اس وقت بھی سر محمد اقبال صاحب کی کوٹھی وہ تعمیر کرا رہے تھے۔کیا سرمحمد اقبال صاحب نے ان کی