انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 458

458 انوار العلوم جلد ۱۳۔ڈاکٹر سر محمد اقبال اور احمد یہ جماعہ رہائش کے ایام میں انہیں منافق پایا تھا یا خود اپنی زندگی سے زیادہ پاک زندگی ان کی پائی تھی۔ان کے سگے بھتیجے شیخ اعجاز احمد صاحب ایسے نیک نوجوان ہیں کہ اگر سر محمد اقبال غور کریں تو یقیناً انہیں ماننا پڑے گا کہ ان کی اپنی جوانی اس نوجوان کی زندگی سے سینکڑوں سبق لے سکتی ہے۔پھر ان الله شواہد کی موجودگی میں ان کا کہنا کہ احمدی منافق ہیں اور وہ ظاہر میں رسول کریم ﷺ سے محبت کا اظہار کرتے ہیں لیکن دل میں رسول کریم اللہ کے دین کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں، کہاں تک درست ہوسکتا ہے۔میں تمام ان شریف مسلمانوں سے جو اسلام کی محبت رکھتے ہیں درخواست کرتا ہوں کہ وہ ٹھنڈے دل سے اس صورتِ حالات پر غور کریں جو ڈاکٹر سرمحمد اقبال صاحب کے اعلان نے پیدا کر دی ہے اور دیکھیں کہ کیا اس قسم کے غیظ و غضب کے بھرے ہوئے اعلان مسلمانوں کی حالت کو بہتر بنائیں گے یا خراب کریں گے اور سوچیں کہ ایک شخص جو اپنے احمدی بھائی کو بلوا کر اس سے اپنی کوٹھی بنواتا ہے دوسرے مسلمانوں کو ان کے بائیکاٹ کی تعلیم دیتا ہے کہاں تک لوگوں کے لئے راہ نما بن سکتا ہے اور اسی طرح وہ شخص جو رسول کریم ﷺ کی ذات پر کھلا حملہ کرنے والے کو اچھا قرار دیتا ہے اور اپنے ایمان پر اعتراض کرنے والے کو نا قابلِ معافی قرار دیتا ہے کہاں تک مسلمانوں کا خیر خواہ قرار دیا جا سکتا ہے۔کاش! سر محمد اقبال اس عمر میں ان امور کی طرف توجہ کرنے کی بجائے ذکر الہی اور احکام اسلام کی بجا آوری کی طرف توجہ کرتے اور پیشتر اس کے کہ تو بہ کا دروازہ بند ہوتا اپنے نفس کی اصلاح کرتے تا خدا تعالیٰ ان کو موت سے پہلے صداقت کے سمجھنے کی توفیق دیتا اور وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بچے متبع کے طور پر اپنے رب کے حضور میں پیش ہو سکتے۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ والسلام۔خاکسار میرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ (الفضل ۱۸۔جولائی ۱۹۳۵ء) ملت بیضاء پر ایک عمرانی نظر صفحہ ۱۸- اقبال اکیڈمی لاہور۔زمیندار ۵ مئی ۱۹۳۵ء مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۲۰۷ المكتب الاسلامی بیروت میں اس حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں "أَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ“