انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 443

443 انوار العلوم جلد ۱۳ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان (۳) وہ نقاب اُتارے گھونگھٹ کھوئے پردہ اٹھا کر باہر آئے، بینی پکڑے مولا علی کے جو ہر یکھے، کشتی لڑے غرض ہر ایک رنگ میں آجائے۔وہ موٹر میں آئے میں ننگے پیروں آؤں وہ دیبا اور حریر پہن کر آئے، میں گاندھی جی کی کھلڑی ( کھدر ) پہن کر آؤں، وہ عنبری کھا کر آئے، میں بھو کا آؤں وہ زعفران کی چائے اور یاقوتی اور پلومر کی دکان کی ٹانک وائن اپنے ابا کی سنت میں پی کر آئے میں اپنے نانا کی سنت میں پیٹ پر پتھر باندھ کر آؤں۔(۴) ڈپٹی کمشنر گورداسپور اور پولیس سب آئیں اور دیکھیں کہ پانچ منٹ میں فیصلہ ختم ہو جاتا ہے یا نہیں۔وہ باہر نکلے اور صرف اسی پر اکتفاء نہ کرے کہ حکومت ہمارے سروں پر مسلط کر دے۔حکومت پانچ منٹ کے لئے غیر جانب دار ہو پھر دیکھو بخاری کا رنگ۔(۵) ان کی چالبازیوں کے باوجود (۶) اس خبیث زمین پر معلوم نہیں ہم کیوں آئے ہیں۔(۷) یہاں خاتم النبیین کی تو ہین ہوتی ہے۔(۸) واضح رہے، صبح ہونے سے پہلے یہاں آگ لگی ہوگی۔(۹) مجھے اکیلا چھوڑ دو اور دیکھو میں بشیر محمود کو کیا کرتا ہوں۔(۱۰) ان کا کعبہ لنڈن بن جائے گا۔(11) نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ میثرب کی عزت پر خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا یہ ہے مسلمان کا عقیدہ لیکن یہ مرزائی وہی ہیں جو خواجہ میثرب کی ہتک کرتے ہیں۔(۱۲) ابن سعود مرزائیوں کے نقطہ نظر سے واجب القتل ہے۔(۱۳) بانی سلسلہ احمدیہ کی طرف منسوب کر کے کہا:۔میرے مخالفین جنگلوں کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کیتیوں سے بدتر ہیں۔اس اخبار کے علاوہ میں نے یہ تقریر اور ذریعہ سے بھی پڑھی تھی۔اس مقدمہ کے دوران میں تقریر کے متعلق کسی نے اس وقت تک مجھے کچھ نہیں بتایا جب تک کہ زمیندار میں وہ چھپی نہیں تھی۔مجھے یاد نہیں ہے کہ ملزم کی تقریر پڑھنے کے بعد میں نے خطبہ میں اس کا ذکر کیا۔یا الفضل نے ذکر کیا۔میرا خیال ہے کہ بہت سے رقعے لوگوں نے اس تقریر کے خلاف لکھے تھے اور خطوط بھی لکھے