انوارالعلوم (جلد 13) — Page 444
444 انوار العلوم جلد ۱۳ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ خطوط دفتر میں موجود ہوں۔ملزم کی تقریر کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ سامعین کے عقائد کو بدلا جائے۔کیونکہ کسی احمدی کو وہاں جانے کی اجازت نہ تھی۔تقریر سے معلوم ہوتا ہے اصل غرض احمد یوں کے خلاف منافرت پھیلا نا تھی۔بے شک اس کا یہ بھی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ اس بغض کی وجہ سے لوگ احمدی نہ ہو جائیں۔تقریر کرنے والے نے جو فرعونی تخت کہا ہے اس کو ہماری جماعت گالی سمجھتی ہے اس لئے قابلِ اعتراض ہے۔کیونکہ ہم حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو خدا کا فرستادہ سمجھتے ہیں اور ان کی تعلیم کے متعلق ایسا لفظ بولا گیا ہے۔مجھے معلوم نہیں کہ بعض مسلمان ایسے ہیں جو احمدیت کو مستقل لعنت سمجھتے ہیں، کیونکہ اس سے پہلے کبھی احمدیت کے خلاف میں نے یہ لفظ نہیں پڑھا۔یہ فقرہ کہ نقاب اُتارے گھونگھٹ کھوئے باہر آئے جس کا ذکر فقرہ نمبر (۳) میں ہے۔یہ میری ذات کے متعلق کہا گیا ہے مگر الفاظ ٹانک وائن والا جو فقرہ ہے، وہ بانی سلسلہ کے متعلق ہے۔یہ مجھے معلوم ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے کسی دکان سے ایک دفعہ ٹانک وائن جو دوائی ہے کھانسی کے لئے اور جسے حال، کوکا وائن بھی کہتے ہیں منگائی تھی۔میں نے کبھی یاقوتی نہیں خریدی اپنی زندگی میں۔بعض دوستوں نے بطور تحفہ کبھی پیش کی تو اس دوست کی خوشی کیلئے چکھ لی استعمال کبھی نہیں کی۔میں نے زعفران کی چائے یاد ہے ایک دفعہ زندگی میں پی۔میں نے دیبا و حریر یعنی ریشمی کپڑا کبھی استعمال نہیں کیا نہ اپنے لڑکوں کو پہننے کی اجازت دی ہے۔میری موٹر گاڑی ہے جسے میں استعمال کرتا ہوں۔لفظ خبیث کا استعمال قادیان کے متعلق گالی ہے۔اس سے ہمارے مذہبی احساس کو ٹھیس لگتی ہے کیونکہ ہم قادیان کو مقدس مقام سمجھتے ہیں۔عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کو ایک دفعہ امرتسر میں دیکھا جبکہ میں تقریر کر رہا تھا۔ملزم اس میں شامل ہوا تھا۔مجھے ملزم سے کوئی عداوت نہیں۔یہ جو شعر ہے نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ میثرب کی عزت پر خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا