انوارالعلوم (جلد 13) — Page 400
400 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات روکو۔بزرگ نے کہا شیطان کے متعلق بھی یہی کرنا۔خدا تعالیٰ سے کہنا اللہ میاں ! میں آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں مگر شیطان آنے نہیں دیتا اور رستہ روکے کھڑا ہے۔آپ اس گتے کو باندھ دیں۔پس وہ تدبیریں کرو جو شیطان پر غالب آنے کے لئے ضروری ہیں تا کہ بہشت کے اندر داخل ہو سکو۔بعض لوگ غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے ایسی تدبیریں کرتے ہیں جن میں کمزوروں کا تو لحاظ کیا جاتا ہے مگر طاقت وروں کو آگے بڑھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔پھر اس وقت تک ہم نے جو قربانیاں کی ہیں، ان کے متعلق دیکھنا چاہئے کہ ان کی کیا حقیقت ہے۔کیا اسی قسم کی قربانیاں ہمارے دشمن نہیں کر رہے؟ ہم اموال صرف کرتے ہیں تو وہ بھی ہمارے خلاف جلسے کرتے ہیں اور ان میں روپیہ پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ان کے اخبار کی ضمانت ضبط ہوتی ہے تو وہ اور جمع کرا دیتے ہیں۔گو ان چندہ دینے والوں میں سے اکثر بے خبر لوگ ہوتے ہیں اور شریر نہیں ہوتے مگر بہر حال کچھ شریروں کی طرف سے اور کچھ بھولے بھالے فریب خوردہ لوگوں کی طرف سے رقوم جمع ہو جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ مومنوں کے متعلق فرماتا ہے۔اِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُوْنَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيماً حَكِيمًا ۱۸ یعنی اگر تم کو دکھ اور تکلیف پہنچتی ہے تو اُن کو بھی پہنچتی ہے۔مگر مومن اور کافر کی قربانی میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ کافر جو قربانی کرتا ہے، وہ عقلاً نفع بخش ہوتی ہے۔”زمیندار کی تین ہزار روپیہ کی ضمانت ضبط ہوتی ہے تو پانچ ہزار سے آ جاتا ہے اور دو ہزار نفع ہو جاتا ہے۔اگر کوئی قید ہوتا ہے تو اس میں بھی نفع میں رہتا ہے۔پس کا فرقر بانی میں نفع اور فائدہ کا امیدوار ہوتا ہے۔اُس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کسان زمین میں غلہ پھینک رہا ہوتا ہے۔لیکن مومن کی مثال یہ ہوتی ہے کہ جیسے کو ئی شخص سمندر میں غلہ پھینکے۔لوگ اسے کہتے ہیں کہ پاگل ہو گیا۔علی گڑھ اور اسلامیہ کالج لاہور میں لوگ چندہ دیتے ہیں تا کہ شہرت ہو مگر صدرانجمن احمدیہ کو چندہ دینے سے کیا حاصل ہو سکتا ہے۔لوگ گورنمنٹ کے خلاف تقریریں کرتے قید ہوتے ہیں تو عوام میں عزت ہو جاتی ہے لیکن ہماری جماعت کا اگر کوئی شخص ایسا کرے تو ہم خود اُ سے ڈانٹیں گے۔کابل میں ہمارے آدمی مارے گئے تو محمود طرزی سے ملنے کے لئے میں نے سید ولی اللہ شاہ صاحب کو بھیجا۔جب انہوں نے کہا کہ حکومت کابل نے ہمارے آدمیوں کی حفاظت کا وعدہ کر کے مار دیا ہے تو طرزی صاحب کہنے لگے شکایت تو ہمیں ہونی چاہئے کہ دو تین آدمیوں کے