انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 396

396 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات سکتا۔وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے اپنے آپ کو شیطان کے آگے ڈال دیا تو اُسے میرے جسم سے تقدس کی خوشبو آ جائے گی اور وہ مجھے پہچان لے گا اور پھاڑ کر پھینک دے گا اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ لاہور کے حال کے الیکشن میں ایک الیکشن افسر کے سامنے جو ہماری جماعت سے تعلق رکھتا تھا ایک آدمی ووٹ دینے کے لئے پیش ہوا۔یہ الیکشن ہند و وارڈ کا تھا اور ووٹ دینے والا شخص شکل و شباہت سے مسلمان معلوم ہوتا تھا مگر ہندو کی طرف سے ہندو بن کر ووٹ دینے آیا تھا۔اس احمدی افسر نے اُسے ڈانٹا کہ تو مسلمان ہو کر ووٹ دینے آیا ہے؟ تو اس نے گھبرا کر کہا۔قرآن کی قسم ! میں مسلمان نہیں ہندو ہوں اس طرح وہ ظاہر ہو گیا تو جس میں تقدس آ جائے اُس کا تقدس ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔شیطان اُس کے پیچھے لگا ہوتا ہے وہ آگے دوڑتا جاتا ہے اور اسے خدا تعالیٰ پر بھروسہ ہوتا ہے کہ وہ شیطان سے نہیں پھڑ وائے گا اور مصیبت کتنی بھی لمبی ہوتی جائے اس کی روح مضبوط ہوتی جاتی ہے خواہ جسم کمزوری محسوس کرے۔جیسے حضرت مسیح علیہ السلام نے مصیبت کے وقت اپنے حواریوں سے کہا۔آؤ میرے ساتھ دعا کرو مگر وہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ بھی اُن کے ساتھ دعا نہ کر سکے۔اُس وقت کی حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا کے الفاظ کتنے درد ناک ہیں۔کہتے ہیں۔میری روح تو مستعد ہے لیکن جسم کمزور ہے۔یعنی روح تو صلیب پر لٹکنے کے لئے تیار ہے لیکن جسم چاہتا ہے کہ یہ پیالہ مل جائے۔یہی مومن کی حالت ہوتی ہے۔ایک طرف تو وہ رضا بالقضاء ہوتا ہے کہ جو ہونا ہے ہو جائے مگر اُس کا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر یہ مصیبت ٹل جائے تو اچھا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کبھی نہیں چھوڑ تاجب تک مومن ہر قسم کے ابتلاء میں سے نہ گزرے۔چنانچہ فرماتا ہے اَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسْتَهُمُ الْبَاسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوْا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللهِ قَريبٌ۔اے مومنو! اے مامور کی جماعت! کبھی یہ مت خیال کرو کہ بغیر مصیبتیں اُٹھائے تم کامیاب ہو جاؤ گے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جنت کے پاس پہنچ جاؤ گے اور اس میں داخل ہو جاؤ گئے، حالانکہ ابھی تمہاری وہ حالت نہیں ہوئی جو پہلے انبیاء کی جماعتوں کی ہوئی۔کیا تمہاری مصیبتیں اس حد تک پہنچ چکی ہیں جو پہلے انبیاء کی جماعتوں کو پہنچیں۔اُن کو مالی بھی اور جسمانی بھی مصیبتیں پہنچیں۔اور چاروں طرف سے انہیں خوب جھنجوڑا گیا جس طرح جامن کو برتن میں ڈال کر ہلایا جاتا ہے۔