انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 387

387 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات ہے یا کس کا نام ہے؟ ان کے بتانے پر کہ قیصر کا ، انہوں نے کہا: بس پھر جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو لے پس ہم بھی خدا کے لئے وہی مانگتے ہیں جو خدا کا ہے اور خدا کو پنجاب یا ہندوستان کی کیا ضرورت ہے وہ دل چاہتا ہے اور ہم بھی اس کے لئے لوگوں کے قلوب ہی طلب کرتے ہیں دنیا وی حکومتوں سے ہمیں کیا کام۔مگر میں یہ بزدلی سے نہیں کہتا بلکہ دیانت داری سے بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارا حکومت سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔اس کا میدانِ عمل اور ہے اور ہمارا اور ہے لیکن اگر وہ خود ہم سے ٹکرائے گی تو اُس کا وہی حال ہوگا جو کونے کے پتھر سے ٹکرانے والے کا ہوتا ہے۔ہمیں وفاداری کی تعلیم دی گئی ہے اور ہم اس پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔مگر اس قسم کے گتے جو ہمارے پیچھے چھوڑے گئے ہیں اور حکومت ان کا تدارک کر کے ان کے ضرر سے ہمیں نہیں بچاتی خدا تعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گئے خدا تعالیٰ ضرور ان سے بدلہ لے گا اور حکومت بھی جلد اس کا انسداد نہ کرنے کے سبب سے زیر الزام آئے گی۔ہماری امن پسندی کی تو یہ حالت ہے کہ بعض مقامی حکام نے احراریوں کے جلسہ کے موقع پر جب حکم دیا کہ احمدی اپنے پاس کیمرے نہ رکھیں، تو میں نے فوراً اس حکم کی تعمیل کی ہدایت کر دی حالانکہ کیمروں سے کسی کو کیا نقصان پہنچ سکتا تھا۔کیمرہ سے کبھی کسی نے کسی پر حملہ کیا ؟ اس سے کبھی کوئی خون ہوا؟ کبھی اس سے کسی نے کسی کی آنکھ ہی پھوڑی ہے؟ ایسا نا معقول شخص کون ہوگا کہ دو آنے کی سوئی جو کام کر سکتی ہے وہ دو اڑھائی سو روپیہ کے کیمرے سے لے۔مگر احراریوں کے جلسہ پر حکم دیا گیا کہ احمدی اپنے پاس کیمرے نہ رکھیں، ان سے فساد ہو جائے گا اور اس کی وجہ صرف ان چھوٹے افسروں کی یا سپاہیوں کی شکایت تھی جو ڈرتے تھے کہ احمدی ہماری حرکات کی تصویر نہ لے لیں اور جب ان کی شکایت کی غرض نہ سمجھتے ہوئے سپر نٹنڈنٹ پولیس نے حکم دیا کہ احمدی کیمرے نہ رکھیں، اس سے اشتعال ہوتا ہے تو میں نے جماعت کو اس سے بھی منع کر دیا۔پھر ایک لڑکے نے جو مستری کا کام سیکھتا تھا، ایک کھڈ سٹک بنائی تو اس کا نام نیزہ رکھا گیا اور اخباروں میں یہ خبر شائع کرائی گئی کہ قادیان میں نیزے پکڑے گئے ہیں۔باوجود اس کے کہ یہ بالکل جھوٹ تھا اور باوجود اس کے کہ ہم نے اس کے متعلق چیلنج دیا اور میں نے خود سی۔آئی۔ڈی کے سپرنٹنڈنٹ صاحب کو کہا کہ آپ میری اجازت سے اسی وقت ہماری در بندی کر کے تلاشی لے لیں تا کہ شک کی کوئی گنجائش نہ رہے اور چونکہ ہم خود راضی ہیں، قانون کا کوئی اعتراض نہ ہو