انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 386

386 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات گزارہ کس طرح چلے گا نہ تو یہ جائداد کا انتظام کر سکتے ہیں اور نہ نوکری کرنا چاہتے ہیں۔قریب کے گاؤں کا ایک سکھ تھا اُس کے دو بیٹے دادا صاحب کے پاس آیا کرتے تھے۔ان میں سے ایک نے مجھے سنایا کہ بڑے مرزا صاحب نے ایک دفعہ مجھے کہا: تم جاؤ غلام احمد تمہاری عمر کا ہے اسے سمجھاؤ کہ اگر وہ جائداد کا انتظام نہیں کر سکتا تو اسے ملازم کرا دوں۔میں نے جا کر کہا آپ کے والد صاحب ناراض ہو رہے ہیں کہ آپ کوئی کام نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کیا بھائی کے ٹکڑوں پر پڑے رہو گئے اگر کہو تو ملازم کرا دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سن کر فر ما یا والد صاحب تو یونہی فکر کرتے ہیں، انہیں کہہ دو میں نے جس کا نوکر ہونا تھا ہو گیا ہوں۔باوجود یکہ دادا صاحب دنیا دار آدمی تھے اس سکھ کا بیان ہے کہ جب میں نے انہیں جا کر کہا کہ وہ تو یہ کہتے ہیں تو خاموش ہو گئے اور پھر کہا اگر اس نے یہ کہا ہے تو سچ کہتا ہے وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔پس ہم اس کے قائم کئے ہوئے سلسلہ کو چلانے والے ہیں جو دنیا کی نوکریوں سے آزاد تھا۔دنیا وی نوکریوں کی غرض یہی ہوتی ہے کہ دنیاوی مفاد حاصل کئے جائیں۔ہمارے پاس تو وہ کا غذات پڑے ہیں جن میں حکومت کی طرف سے لکھا ہے کہ وہ ہمارے خاندان کی پھر پہلی حالت بحال کر دے گی۔یہ تحریر میں حکومت تسلیم کرتی رہی ہے مگر ہم نے ان کو کبھی اتنی بھی وقعت نہ دی جتنی رڈی کاغذ کو دی جاتی ہے۔کبھی ہم نے ان کی بناء پر حکومت سے کچھ مانگا ؟ قطعا نہیں۔ملک میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے حکومت کی چھوٹی چھوٹی خدمات کیں اور حکومت نے ان کو مربعے دیئے مگر کیا ہم نے کبھی حکومت سے کچھ مانگا ؟ یا جماعت کی خدمات کی بناء پر کچھ مانگا۔جنگ عظیم میں ہم نے تین ہزار کے قریب افراد مہیا کئے اور ہزار ہا روپیہ خرچ کیا۔اتنی ہی تعداد ب شخص کی طرف منسوب کی گئی، حالانکہ اس نے اتنے آدمی نہ دیئے تھے اسے سر کا خطاب مل گیا مگر ہم نے کچھ نہیں مانگا۔اگر ہماری خدمات دنیاوی اغراض کے ماتحت ہوتیں تو کبھی تو اس کا کوئی نشان ظاہر ہوتا۔باوجود اس کے اگر حکومت کو یہ خیال ہو کہ ہم اس سے جاہ طلبی کرتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہے۔ہمیں جو کچھ ملنا تھا وہ اُسی وقت مل گیا جب ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔حضرت مسیح علیہ السلام پر بھی یہی الزام لگایا گیا تھا کہ وہ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔یہود اُن کے پاس گئے اور سوال کیا کہ کیا ہم قیصر کو مالیہ نہ دیں۔آپ نے فرمایا: ذرا وہ در ہم تو دکھا ؤ جو تم کو دینا پڑتا ہے۔جب انہوں نے درہم دکھایا تو آپ نے کہا اس پر کس کی تصویر