انوارالعلوم (جلد 13) — Page 385
385 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات کے معنی نیزہ مارنا ہیں۔پس وہی خدا جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت آپ کے دشمنوں کے متعلق قہری جلوہ دکھایا، وہی اب بھی موجود ہے۔اور اب بھی ضرور اپنی طاقتوں کا جلوہ دکھائے گا اور ہر گز خاموش نہ رہے گا۔ہاں ! ہم خاموش رہیں گے اور جماعت کو نصیحت کریں گے کہ اپنے نفسوں کو قابو میں رکھیں اور دنیا کو دکھا دیں کہ ایک ایسی جماعت بھی دنیا میں ہو سکتی ہے جو تمام قسم کی اشتعال انگیزیوں کو دیکھ اور سُن کر امن پسند رہتی ہے۔پھر لطیفہ یہ ہے کہ جو حرکات جماعت احمدیہ کے خلاف کی جاتی ہیں وہ اس قدر معقولیت سے دور ہیں کہ معمولی عقل و سمجھ کا انسان بھی ان کی بے ہودگی کو سمجھ سکتا ہے۔ایک ہی وقت اعلان کیا جاتا ہے کہ احمد ی حکومت کے جاسوس ہیں اور پھر ساتھ ہی یہ کہتے ہیں کہ انگریزوں کے دشمن ہیں لیکن بغض و کینہ کی انتہاء ہے کہ جب فتنہ پرداز یہ کہتے ہیں کہ احمدی انگریزوں کے دشمن ہیں، تو پڑھنے والے کہتے ہیں کیا ہی اچھا کہا اور جب کہتے ہیں کہ احمدی انگریزوں کے جاسوس ہیں، تو پھر بھی کہتے ہیں واہ واہ کیا خوب کہا۔گویا ایک ہی وقت میں دونوں باتیں جو ایک دوسری کی متضاد ہیں پسند کی جاتی ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ حکومت کا ایک جزو بھی ایسے لوگوں کی باتوں کو درست تسلیم کرتا اور اپنے طرز عمل سے ان کی حمایت کرتا ہے۔جب وہ کہتے ہیں کہ احمدی حکومت کے جاسوس ہیں، تو حکومت کے افسر خاموشی سے گزر جاتے ہیں، گویا انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں لیکن جب کہتے ہیں کہ احمدی انگریزوں کے دشمن ہیں تو احمدیوں کے خلاف ڈائریاں لکھنے لگ جاتے ہیں۔غرض فتنہ پرداز لوگ اس طرح ایک طرف تو حکومت کو ہمارے خلاف اکساتے اور دوسری طرف مسلمانوں سے لڑاتے ہیں اور یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ یہ کانگرس سے مل کر اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ہمیں جو کچھ ملنا تھا مل چکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی کہا گیا اور دو دفعہ مجھے بھی کہلایا گیا کہ کیا حکومت اگر کوئی خطاب دے تو اسے قبول کر لیا جائے گا۔میں نے کہا اگر حکومت ایسا کرے گی تو وہ میری ہتک کرے گی۔ہمیں خدا تعالیٰ سے جو کچھ مل چکا ہے اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے اور اس سے بڑھ کر حکومت کیا دے سکتی ہے۔اپنے متعلق خطاب کا ذکر تو الگ رہا، اگر جماعت احمدیہ کا کوئی شخص بھی خطاب کے متعلق کچھ پوچھتا ہے تو میں اسے یہی کہتا ہوں کہ مجھے تو انسانی خطاب سے گھن آتی ہے۔احمدی کہلانے سے بڑا خطاب اور کیا ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق آپ کے والد صاحب کو خیال تھا کہ ان کا