انوارالعلوم (جلد 13) — Page 368
انوار العلوم جلد ۱۳ 368 مستورات سے خطاب داخل ہو جاؤ گی۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دایہ آپ کے پاس آئیں تو آپ نے خوش طبعی کے طور پر کہا کہ بوڑھا تو جنت میں داخل ہو ہی نہیں سکتا۔وہ بہت پریشان ہوئیں تو آپ نے فرمایا کہ جنت میں سب جوان ہو کر داخل ہوں گے ۲۔تو مطلب آپ کا عورتوں کو کہنے کا یہی تھا کہ تم احسان فراموشی چھوڑ دو اور اپنی عقلوں کو بڑھاؤ۔اکثر بچوں کو دیکھا ہے کہ پہلے عقل کم ہوتی ہے لیکن عمر کے ساتھ ساتھ عقل درست ہو جاتی ہے۔تو اب اگر عورتوں کو بھی ایسا کہا کہ تم عقل میں یا دین میں ناقص ہو تو کیا وہ عقل یا دین چھوڑ کر بیٹھ جائیں۔نہیں ہرگز نہیں۔کیونکہ تم ناقص ہو دین میں۔اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ تم دین چھوڑ کر ہی بیٹھ جاؤ بلکہ یہ تھا کہ تم دین سیکھو۔ہم دیکھتے ہیں بچے سکولوں میں جاتے ہیں اور شروع میں کچھ نہیں جانتے لیکن آخر سیکھ کر جانتے ہیں تو کیا شروع میں پڑھنا نہ آئے تو پڑھنا ہی چھوڑ دیا جائے ؟ یہ تو نصیحت تھی کہ احسان فراموشی چھوڑ دو۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کتنا بڑا احسان ہے کہ آپ سے پہلے عورتوں کو جانوروں کی طرف سمجھا جاتا تھا اور طرح طرح کے ناقص نام رکھے جاتے تھے اور اب بھی اکثر قو میں ان میں روح ہی نہیں مانتیں۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر احسان کیا ہے یہ فرما کر کہ عورت اور مرد انسانیت میں برابر ہیں۔سے ہم تو دیکھتے ہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ عورت دیندار ہوتی ہے اور مرد دین میں کمزور عورت عقلمند ہوتی ہے اور مرد عقل میں کمزور یہ کتنا بڑا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر احسان کیا۔تو عورتوں کا فرض تھا کہ اس احسان کے شکریہ میں اشاعتِ اسلام کرتیں لیکن یہ سب قصور علمائے زمانہ کا ہے انہوں نے عورتوں کو یہ بتلایا کہ تمہاری عقل اور ذہن کمزور ہے تم کچھ کر ہی نہیں سکتیں۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو غیرت دلائی تھی کہ تم کہاں بغیر امر صالح کے جنت میں داخل ہو سکتی ہو عقل نہیں سیکھتی ہو دین کے کام نہیں کرتی ہو۔عقل کام سے آتی ہے اور کام سیکھنے سے آتے ہیں لیکن اس کا الٹا مفہوم سمجھانے کا قصور مولویوں کا ہے۔آج میں نے تمہیں حدیث کی حقیقت سمجھا دی ہے تا کہ تم اچھی طرح سمجھ لو کہ اس کا مطلب یہ تھا۔اب اس نصیحت کے بعد جو تمہید ہے میرے مضمون کی ، یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ اسلام کی خدمت کا یہ نادر موقع ہے کیونکہ اسلام کا آدھا دھڑ مولویوں نے مار دیا تھا کہ عورتیں ناقص العقل ہیں وہ کچھ کر ہی نہیں سکتیں اور اسلام کے متعلق ایسی ایسی باتیں مسلمانوں میں پیدا کی تھیں کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہو گیا کہ تمام انبیاء مس شیطان سے مبرا نہیں۔الغرض سارے انبیاء پر کچھ نہ