انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 369

369 انوار العلوم جلد ۱۳ مستورات سے خطاب کچھ عیب لگائے ہوئے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آ کر اسلام کی اصل تصویر پیش کی۔علماء نے لوگوں میں یہ پھیلایا ہوا تھا کہ قرآن کریم کی بہت سی ایسی باتیں ہیں جو ماننے کے قابل نہیں۔اگر وہ سب میں تم کو بتاؤں تو تم حیران ہو جاؤ۔یادرکھو اسلام وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش کیا ہے۔حقیقی اسلام ہے تو وہ احمدیت ہی ہے۔پس اگر اس وقت احمدیت خطرے میں ہے تو اسلام خطرے میں ہے۔اب جو اسلام مولوی پیش کرتے ہیں وہ ہر گز ماننے کے قابل نہیں۔غیر مسلموں کے سامنے یہ اسلام کی تعلیم بُرے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔مثلاً اگر کوئی غیر مسلم مسافر ا کیلا مل جائے تو اُس کا مال چھین لو اگر کسی کافر کی بیوی مل جائے تو بغیر نکاح کے جائز تو ایسے اسلام کو کون مانے گا۔پھر علماء کہتے ہیں کہ جہاد کا مسئلہ اصل اسلام ہے ہندؤ عیسائی، سکھ جو بھی ہو اُس کا قتل جائز اُس کا مال لے لینا جائز۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ میں ایک دفعہ امرتسر گیا اور ایک آدمی کو چار آنے دیئے کہ کچھ مٹھائی خرید لاؤ۔جب وہ چیز لے کر واپس آیا تو پیسے بھی اُس کے ہاتھ میں تھے۔میں نے پوچھا تم چیز بھی لائے ہو اور پیسے بھی واپس لائے ہو کہنے لگا کہ یہ مال غنیمت کا ہے میں نے دکان دار کو کہا کہ اندر سے دوسری چیز مجھے لا کر دکھاؤ۔وہ اندر سے چیز لینے گیا تو میں نے اٹھنی اُس کی اُٹھالی۔میں نے کہا تم نے یہ چوری کی ہے۔کہنے لگا وہ تو ہندو تھا مسلمان نہ تھا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ احسان ہے کہ اسلام کی صحیح تعلیم پیش کی ہے۔اگر کوئی اسلام کی یہ تعلیم پیش کرے کہ ہندو ہو سکھ ہو عیسائی ہوان کو مارو اُن کی چوری کرو تو کیا کوئی ایسے اسلام کو مانے گا ؟ ہر گز کوئی مانے کو تیار نہ ہوگا۔اس بناء پر وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد کو منسوخ کر دیا ہے اور آج کل مولویوں نے جگہ جگہ جتھے بنائے ہیں اور کہتے ہیں چونکہ اسلام جہاد کا حکم دیتا ہے اور یہ اس کے برخلاف ہیں اس لئے ان کو اور ان کی جماعت کو تباہ کر دو کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کی تلوار توڑ دی۔وہ جماعت احمدیہ کی تباہی و ایذا رسانی کے کیوں درپے ہیں ؟ اسی لئے کہ حضرت صاحب نے ظلم اور بے ایمانی دور کی۔حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کو کابل والوں نے اسی لئے مروایا تھا کہ وہ کہتے تھے انگریزوں کو نہ مارو۔اسی طرح ایک اور احمدی تھا جوا کیلا تھا اُس کا باپ اور رشتہ دار غیر احمدی تھے۔اُس کو کھانا کھلانے سے پہلے اِس طرح مارا جا تا تھا جیسے کھانے کے ساتھ سالن لیا جاتا ہے اور ہر روز اُسے اِسی طرح مارا جاتا تھا۔ایک دفعہ اُس کے بھائی اُس کو مار رہے تھے کہ اُس کا باپ آ گیا وہ چلایا کہ میں مر گیا۔تو اُس کے باپ کو کچھ رحم آ گیا اور کہا کہ اس کو چھوڑ دو۔