انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 363

363 انوار العلوم جلد ۱۳ بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے تین شاہد رہے گا۔نیز یہ کہ جس طرح وہ ماضی میں بخشش کا ہاتھ بلند کرتا رہا ہے آئندہ بھی وہ ایسا ہی کرے گا اور دائی دوزخ کسی کو نہ ملے گی سب بندے آخر بخشے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سزا بطور علاج ہوتی ہے نہ بطور ایذاء اور تکلیف دہی کے۔آہ! علماء کا وہ غصہ دیکھنے کے قابل تھا جب انہوں نے مرزا صاحب کے یہ الفاظ سنے جس طرح سارا دن کی محنت کے بعد شکار پکڑ کر لانے والے چڑی مار کی چڑیاں کوئی چھوڑ دے تو وہ غصہ میں دیوانہ ہو جاتا ہے اسی طرح علماء کے چہرے غصہ سے سرخ ہو گئے اور یوں معلوم ہوا جیسے کہ ان کے پکڑے ہوئے شکار مرزا صاحب نے چھوڑ دیئے ہیں۔مگر بانی سلسلہ نے ان امور کی پرواہ نہیں کی انہوں نے خود گالیاں سنیں اور ایذائیں برداشت کیں لیکن خدا تعالیٰ سے محبت کرنے کا راستہ کھول دیا اور اعمال مستقلہ کیلئے ایک محرک پیدا کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت احمدیہ کے اندر خدا تعالیٰ کی محبت کی وہ آگ پیدا ہوگئی جو انہیں رات دن بندوں کو خدا تعالیٰ کی طرف کھینچ کر لانے پر مجبور کر رہی ہے۔عشق آه! کیسا پیارا لفظ ہے یہ عشق کی آگ ہمارے دلوں میں مرزا صاحب نے پیدا کر دی عشق زبردستی نہیں پیدا ہوتا۔عشق حسن سے پیدا ہوتا ہے یا احسان سے۔ہم ایک حسین یا محسن کو بدنما صورت میں پیش کر کے عشق نہیں پیدا کر سکتے۔عشق حُسن واحسان سے ہی پیدا ہوتا ہے اور مرزا صاحب نے ہمارے سامنے خدا تعالیٰ کو جس صورت میں پیش کیا وہ حقیقی حسن اور کامل احسان کو ظاہر کرنے والا تھا اور اس کا نتیجہ جو نکلا وہ دنیا کے سامنے موجود ہے۔ہم دیوانے ہیں خدا تعالیٰ کے ہم مجنون ہیں اس حُسن کی کان کے فریفتہ ہیں اس احسانوں کے منبع کئے اس کی رحمتوں کی کوئی انتہا نہیں، اس کی بخششوں کی کوئی حد نہیں، پھر ہم کیوں نہ اسے چاہیں اور کیوں اس محبت کرنے والی ہستی کی طرف دنیا کو کھینچ کر نہ لاویں۔لوگوں کی بادشاہت ملکوں پر ہے ہماری بادشاہت دلوں پر ہے۔لوگ علاقے فتح کرتے ہیں ہم دل فتح کرتے ہیں اور پھر انہیں نذر کے طور پر اپنے آقا کے قدموں پر لا کر ڈالتے ہیں۔بھلا ملک فتح کرنے والے اپنے خدا کو کیا دے سکتے ہیں کیا وہ چین کا محتاج ہے یا جاپان کا ؟ لیکن وہ پاک دل کا تحفہ قبول کرتا ہے محبت کرنے والے قلب کو شکریہ سے منظور کرتا ہے۔پس ہم وہ چیز لاتے ہیں جسے ہمارا خدا قبول کرنے کیلئے تیار ہے کیونکہ ہم اپنے لئے کچھ نہیں چاہتے بلکہ خدا تعالیٰ کیلئے چاہتے ہیں۔اب اے دوستو! دیکھو کیسا زبر دست محرک ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیدا کر دیا ہے۔ہمیں اب اس سے غرض نہیں کہ ہندو مسلمان کی لڑائی ہو رہی ہے یا سکھ مسلمان کی یا عیسائی