انوارالعلوم (جلد 13) — Page 349
349 انوار العلوم جلد ۱۳ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۴ء مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ کے والد صاحب نے لاہور بھیج دیا کہ وہاں جا کر پیروی کریں چنانچہ آپ لمبا عرصہ جو مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے قریب تھا لا ہور رہے۔قادیان کے سید محمد علی شاہ صاحب لاہور میں رہتے تھے، اُن کے پاس آپ ٹھہرے اور انہوں نے اپنے ایک دوست کی گاڑی کا انتظام کر دیا کہ جب چیف کورٹ کا وقت ہو آپ کو وہاں پہنچا آیا کرے اور جب وقت ختم ہو جائے آپ کو لے آئے۔یہ بیان کرنے والے دوست کے والد صاحب کی گاڑی تھی۔کئی دنوں کے انتظار کے بعد جب فیصلہ سنایا گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام گاڑی کے پہنچنے سے پہلے ہی سید محمد علی شاہ صاحب کے گھر آگئے۔سید صاحب نے پوچھا آج آپ گاڑی کے پہنچنے سے پہلے ہی آگئے۔آپ بڑے خوش خوش تھے۔فرمانے لگے مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا اس لئے میں پہلے ہی آ گیا۔سید صاحب نے آپ کی خوشی کو دیکھ کر سمجھا، مقدمہ میں کامیابی ہوئی ہوگی مگر جب پوچھا کہ کیا مقدمہ جیت گئے تو آپ نے فرمایا۔مقدمہ تو ہار گئے مگر اچھا ہوا جھگڑا تو مٹا' اب ہم اطمینان سے خدا تعالیٰ کو یاد کر سکیں گے۔یہ سن کر سید صاحب بہت ناراض ہوئے، اُس وقت تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی نہیں کیا تھا اور جب آپ نے دعوی کیا تو بھی کچھ عرصہ تک سید صاحب مخالف رہے انہوں نے ناراض ہو کر کہا اس مقدمہ کے ہار جانے سے تو آپ کے خاندان پر تباہی آ جائے گی اور آپ خوش ہو رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ نے کہا تھا وہ پورا ہو گیا۔دعویٰ سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ حالت تھی آپ دنیا سے بالکل الگ تھلگ رہتے تھے۔آپ فرماتے اُسی خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب تک اُس نے مجھے مجبور نہیں کر دیا کہ دنیا کی اصلاح کیلئے کھڑا ہوں، اُس وقت تک میں نے دنیا کی طرف توجہ نہ کی۔گویا روحانی طور پر آپ غار حرا میں رہتے تھے جس میں رہتے ہوئے آپ کو دنیا کی کوئی خبر نہ تھی اور دنیا کو آپ کی کوئی خبر نہ تھی۔اُس وقت خدا تعالیٰ نے آپ کو خبر دی فَحَانَ أَنْ تُعَانَ وَتُعْرَفَ بَيْنَ النَّاسِ لے یعنی وہ وقت آگیا ہے کہ ہماری مدد تمہارے لئے نازل ہو دنیا میں تمہارا نام پہچانا جائے۔پھر آپ کو بتایا گیا کہ ” میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔پھر فرمایا۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اب آپ لوگوں میں سے قریباً ہر شخص اس بات سے آگاہی رکھتا ہے کہ کتنے زور آور حملوں