انوارالعلوم (جلد 13) — Page 348
انوار العلوم جلد ۱۳ 348 افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۴ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قادیان کو فتح کرنے والا کوئی پیدا نہیں ہوا اور نہ ہوگا افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۳۶۔دسمبر ۱۹۳۴ء) تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔برادران! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اللہ تعالیٰ کا بے انتہاء احسان ہے اور جس قدر بھی اس کا شکر ادا کریں تھوڑا ہے کہ اس نے ہمیں اپنا ذکر بلند کرنے کیلئے اور اپنی تسبیح وتحمید و تمجید کرنے کا موقع پھر ایک باراس مقام میں عطا کیا جس مقام کو اُس نے اپنی صفات کے ظہور کا اِس زمانہ میں مرکز مقر ر فرمایا ہے۔ہم اُن دنوں کو نہیں بھول سکتے جب کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بنیاد دنیا میں پڑی تھی اور جب کسی شخص کے وہم وگمان میں بھی نہ آ سکتا تھا کہ وہ ہستی جسے اس کے ضلع کے لوگ بھی نہ جانتے تھے کسی وقت سارے جہان کا مرجع بن جائے گی۔کبھی وہ وقت تھا کہ وہ شخص جس کے متعلق بعض دفعہ اُس کے والد کے گہرے دوست بھی اُس کا نام سن کر کہا کرتے تھے کہ ہمیں نہیں معلوم تھا مرزا غلام مرتضی صاحب کا کوئی اور بیٹا بھی ہے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے والد کے دوستوں میں سے کئی ایسے تھے جو سالہا سال کی ملاقات کے بعد یہ معلوم نہ کر سکے تھے کہ مرزا غلام قادر صاحب کے سوا ان کا کوئی اور بیٹا بھی ہے کیونکہ بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ گوشتہ تنہائی میں رہتے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے عادی تھے۔اس وقت ہمارے ایک دوست سٹیج پر میرے پاس ہی بیٹھے ہیں، وہ سنایا کرتے ہیں ابتدائے ایام میں یعنی اپنی ابتدائی زندگی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اُن کے والد صاحب مقدمات کی پیروی کیلئے بھیج دیا کرتے تھے۔ایک اہم مقدمہ چل رہا تھا جس کی کامیابی پر خاندانی عزت اور خاندان کے وقار کا انحصار تھا حضرت