انوارالعلوم (جلد 13) — Page 339
انوار العلوم جلد ۱۳ 339 اصلاح ہمارا نصب العین أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ اصلاح ہمارا نصب العین ہم اصلاح کے پہلے پرچہ کو اہالیان کشمیر کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اپنے نصب العین کو بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ تا حکومت اور رعایا دوست اور دشمن کسی کو بھی ہمارے مقصد کے متعلق کوئی شبہ نہ رہے۔گذشتہ تین سال کی جدو جہد سے کشمیر میں جو فضا پیدا ہو چکی ہے وہ اس بات کو چاہتی ہے کہ ان نئی طاقتوں سے جو ملک میں پیدا ہوگئی ہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھایا جائے ورنہ خطرہ ہے کہ وہ طاقتیں بجائے ملک کے لئے مفید ہونے کے مضر ہو جائیں۔گذشتہ تین سال میں ملک میں جو کچھ ہوا ہے اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کوئی شخص ایک پہاڑ کی چوٹی پر سے ایک بڑے دریا کا دہانہ کاٹ کر اسے ایک نہایت گہرے گڑھا میں گرا دے۔یہ بلندی سے پستی میں گرنے والا پانی اپنے اندر بے انتہا ء طاقت رکھتا ہے لاکھوں گھوڑوں کی بجلی کی طاقت اس کے اندر موجود ہوتی ہے، ہزاروں مکانات اس سے روشن کئے جا سکتے ہیں، سینکڑوں کارخانے اس سے چلائے جا سکتے ہیں، ہزاروں کنویں، آہٹ اور پن چکیاں حرکت میں لائی جاسکتی ہیں اور لاکھوں آدمیوں کو بے روزگاری سے بچا کر آرام اور راحت کی زندگی بخشی جاسکتی ہے لیکن اگر اس طاقت کو استعمال نہ کیا جائے اور اس پانی کو بغیر حد بندی کے چھوڑ دیا جائے تو وہ چٹانوں کو گرانے مکانوں کو برباد کرنے، گاؤں اور شہروں کو اُجاڑ نے کھیتوں اور باغوں کو تباہ کرنے کے سوا کس کام آ سکتا ہے؟ کشمیر ہاں مدتوں سے سوئے ہوئے کشمیر میں ایک بیداری پیدا ہوئی ہے جس طرح یخ بستہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر گرمیوں کے سورج کی کرنیں منجمد پانی میں حرکت پیدا کر دیتی ہیں اور قطرہ قطرہ کر کے وہ برف کے ڈھیر سے جُدا ہونے لگتا اور ایک نہ ختم ہونے والی سیر و سیاحت کو شروع کر دیتا ہے اسی طرح کشمیر کی نو جوان روحوں میں گرمی پیدا ہوگئی ہے۔وہ ایک ایک کر کے گذشتہ