انوارالعلوم (جلد 13) — Page 340
انوار العلوم جلد ۱۳ 340 اصلاح ہمارا نصب العین منجمد حالت کو چھوڑ رہی ہیں، زندگی کا خون پھر ایک دفعہ ان کی رگوں میں دوڑ نے لگا ہے وہ پھر ایک دفعہ اپنے جنت نظیر ملک کو جو دوزخ سے بدتر ہو رہا تھا جنت نظیر بنانے کے لئے حرکت کرنے لگے ہیں ایک نہ ختم ہونے والی بے چین کر دینے والی حرکت ان کے اندر پیدا ہو رہی ہے۔یہ ایک خوشی کی بات ہے مگر ساتھ ہی اس میں ایک خطرہ کا الارم بھی ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ اونچے پہاڑوں سے پکھل کر آنے والی برف ملک کو برباد کرنے والی ثابت ہوگی یا اسے آباد کرنے والی؟ وہ مختلف چوٹیوں سے بہہ کر آنے والی چھوٹی چھوٹی نالیاں جو تندرست بچوں کی طرح بے فکری کے ساتھ پتھروں کے ساتھ کھیلتی ہوئی نشیب کی طرف آ رہی ہوتی ہیں کون کہہ سکتا ہے کہ وہ ایک مہیب سیلاب کی شکل میں تبدیل ہو کر قیامت کا نظارہ نہ دکھائیں گی ؟ پس جہاں بیداری میں ایک خوشی کی جھلک ہے وہاں عظیم الشان خطرات بھی پوشیدہ ہیں اور ملک کے لیڈروں کا فرض ہے کہ وہ اس امر کو یا د رکھیں کہ حدوں کے اندر بہنے والا پانی ملک کو آباد کر تا لیکن حدوں کو تو ڑ کر بہنے والا پانی ملک کو برباد کرتا ہے۔جہاں ان کا فرض ہے کہ ملک میں بیداری پیدا کریں وہاں ان کا یہ بھی فرض ہے کہ بیدار نوجوانوں کی زندگیوں کو اعلیٰ مقاصد کے لئے خرچ کریں اور اعلیٰ اخلاق کی زنجیروں میں جکڑ دیں۔اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان کی سب محنت اکارت جائے گی اور سب کوشش رائیگاں۔اصلاح اسی مقصد کو لے کر جاری ہوا ہے کہ وہ ایک طرف إِنْشَاءَ اللہ ملک میں بیداری کی لہر پیدا کرے گا تو دوسری طرف بیدار شدہ روحوں کو مذہبی اخلاقی اور تمدنی ذمہ داریوں کو بجالانے کا مشورہ دے گا۔اس کی تمام تر کوشش اس پر صرف ہوگی کہ نو جوانوں کے اوقات ضائع نہ ہو جائیں، ان کی قربانیاں بے ثمر نہ رہیں، ایک ایک پیسہ جو ملک کی بہتری کے لئے خرچ ہو ایک ایک لمحہ جو قوم کی بہبودی کے لئے صرف کیا جائے ایک ایک کانٹا جس کی خلش ملت کی ترقی کے لئے برداشت کرنی پڑے اس کا نتیجہ ملک، قوم اور ملت کو کئی گنا ترقی کے ساتھ ملے۔اگر ہم اس مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو یقیناً ہمارے ملک کا مستقبل اندوہناک ہوگا۔الْعِيَاذُ باللهِ - ہمارا مقصد تعمیری پروگرام کو جاری کرنا ہو گا ہم کوشش کریں گے کہ ملک کو صحیح تعلیم حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائیں تا کہ ہمارے نوجوان بھی ہندوستان کے نوجوانوں کی طرح روٹی کی فکر میں سرگرداں نہ پھریں۔ہماری کوشش ہو گی کہ نوجوانوں میں قربانی کی روح کے ساتھ استقلال کی روح بھی پیدا کریں تا کہ وہ اس بگولے کی طرح نہ ہوں جو ہر چیز کو ہلا کر آپ بھی