انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 33

۳۳ انوار العلوم جلد ۱۳ قرآن کریم پر ستیارتھ پرکاش کے اعتراضات کی حقیقت ہیں اور خدا کی طرف توجہ نہیں کرتے لیکن غور کر کے دیکھا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ اس کام میں برکت ہو سکتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت ہے۔کیسے شرم کی بات ہے کہ ایک آدمی خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہاتھوں سے کام کرے، اُس کے دیئے پیروں سے چلے، اُس کی عطا کردہ آنکھوں سے دیکھے، دماغ سے غور کرے اور پھر اپنے نفس پر بھروسہ کرے۔بعض دفعہ یوں بھی ہو جاتا ہے کہ انسان اوّل تو نیک نیتی سے کام شروع کرتا ہے، بعد میں نیت بدل جاتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہم کو سکھایا کہ قرآن شریف پڑھنے سے پہلے بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ پڑھنی چاہئے اور ہر ایک سورۃ کے شروع میں یہ آیت نازل فرما کر انسان پر یہ لازم کر دیا کہ ابتدا اسی آیت سے ہو۔پھر حدیث کے ذریعہ ہر ایک بڑے کام سے پہلے اس کا پڑھنا سنت ہوا۔بسم اللہ کے معنی اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ میں یہ کام اپنے نفس کے لئے نہیں کرتا اور کوئی گندی اور ناپاک ناجائز خواہشات کو دل میں چھپائے ہوئے شروع نہیں کرتا بلکہ میں اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اور اسی پر بھروسہ کر کے اور اسی سے اس بات کی مدد مانگتے ہوئے کہ وہ مجھے ہر ایک قسم کی بدنیتوں اور شرارتوں سے بچائے ، شروع کرتا ہوں۔اب بتاؤ کہ کیا یہ پاک الفاظ اس قسم کے ہیں جن پر اعتراض ہو سکے۔ان مختصر سے الفاظ میں کیسے معارف بھر دیئے گئے ہیں کہ کوئی کتاب ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔وید کی ابتدا ابھی میں اُوپر درج کر چکا ہوں کہ آگ کی تعریف سے شروع ہوتا ہے، تو رات اور انجیل کی ابتدا بھی نظروں سے پوشیدہ نہیں ، پھر قرآن شریف کی ابتدا کو بھی دیکھو کہ کس طرح ہوئی ہے اور پھر غور کرو کہ کیا یہ خدا کا کلام ہے یا وہ۔ان تین چار الفاظ میں کس طرح انسان کو نیت صاف رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، پھر خالص خدا پر بھروسہ کرنے کا حکم ہے، پھر یہ ہدایت ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہر ایک کام کے شروع میں مدد اور استعانت طلب کرنی چاہئے تا کہ انسان راہ سے گمراہ نہ ہو جائے اور جادہ اعتدال سے اُس کا پاؤں دوسری طرف نہ پھر جائے۔کیا اس کلام کی نسبت یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ خدا کا کلام نہیں تو پھر اور کون سا کلام خدا کا ہو سکتا ہے؟ پھر اسی آیت میں پنڈت صاحب دوسرا اعتراض یوں کرتے ہیں کہ دوسرا اعتراض اگر اس آیت کے یہ معنی مان لئے جائیں کہ انسان کو حکم ہے کہ تو ہر ایک کام کی ابتدا میں یہ آیت پڑھا کر تو پھر گناہوں کی ابتدا بھی اسی آیت سے لازم آئے گی۔