انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 316

316 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق نئی زندگی بخشی۔آیات کو منسوخ قرار دینے کا نتیجہ یہ تھا کہ لوگ ان معارف کا جو قرآن کریم میں ہیں انکار کر رہے تھے اور اپنی ناسمجھی سے جن باتوں کو سمجھ نہ سکتے انہیں منسوخ قرار دے رہے تھے۔مثلاً قرآن کریم میں ایک طرف کفار سے جنگ کا حکم ہے اور دوسری طرف یہ کہ دین میں جبر نہ کرو۔اب دونوں میں تطبیق نہ کر سکنے کی وجہ سے انہوں نے یہ کہہ دیا کہ لڑائی کا حکم منسوخ ہے حالانکہ دونوں کے علیحدہ علیحدہ مواقع ہیں۔ایک جگہ تو یہ بتایا ہے کہ مذہبی معاملہ میں کسی پر کوئی جبر نہ کرو اور دوسری یہ تعلیم ہے کہ اگر کوئی حملہ کرے تو دین کی حفاظت کیلئے اس سے ضرورلر و اس تعلیم کو جہاں جی چاہے پیش کرو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ ملائکہ کے متعلق صحیح عقیدہ تیسری غلطی ملائکہ کے متعلق تھی۔بعض کہتے تھے کہ ان کا وجود ثابت نہیں، بعض بڑے بڑے محققین نے لکھا ہے کہ یہ صرف صفات الہیہ ہیں حالانکہ قرآن کریم نے ان کے وجود پر اتنا زور دیا ہے کہ کسی طور پر انکار ممکن ہی نہیں۔بعض نے یہ دھوکا کھایا ہے کہ فرشتے آدمیوں کی طرح زمین پر اتر آتے ہیں گو یا بعض نے ان کا مادی وجود قرار دے دیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ دوفرشتے ہاروت و ماروت ایک کنچنی پر عاشق ہو گئے تھے اور اس وجہ سے بابل کے ایک کنویں میں آج تک مقید ہیں۔اسی سلسلہ میں شیطان کو بھی فرشتہ قرار دے دیا گیا حالانکہ قرآن کریم میں صاف ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتے۔پھر بعض نے سرے سے فرشتوں کے وجود کا ہی انکار کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر بتایا کہ دونوں عقائد قرآن کریم کے خلاف ہیں۔قرآن کریم میں صاف طور پر ہے کہ ان کا وجود ہے مگر یہ نہیں کہ وہ مادی جسم اختیار کر کے کسی جگہ جاتے ہیں۔اگر ایسا ہو تو جس وقت فرشتہ زید کی جان نکالنے کیلئے ایک جگہ جائے اور اسی وقت بکر کی جان نکل رہی ہو تو وہ کون نکالے۔اصل بات یہ ہے کہ جس طرح سورج اپنے مقام سے ساری دنیا کو منور کرتا ہے اسی طرح ملائکہ بھی اپنے مقام سے ہر جگہ کام کرتے ہیں۔سورج وہی ہے جو اپنی جگہ کھڑا رہتا ہے۔سورج کی جو ٹکیہ ہم دیکھتے ہیں یہ تو اس کی شعاعوں کا مجموعہ ہے۔اس پر بعض لوگوں نے یہ دھوکا کھایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرشتوں کے منکر ہیں، حالانکہ یہ بات نہیں۔چوتھی چیز عصمت انبیاء ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اللہ تعالیٰ سے ہدایت لے کر لوگوں کی راہ نمائی کیلئے آتے رہتے ہیں عصمت انبیاء اور وہ ہر قسم کے گناہ سے پاک ہوتے ہیں لیکن حضرت مرزا صاحب سے پہلے مسلمانوں کا یہ خیال۔