انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 311

311 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق جگہ کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔پھر ایک سکھ ای۔اے۔سی آگئے ان سے بھی یہی کہنا شروع کر دیا کہ آپ کی کیا خاطر کروں؟ میں نے سمجھا انہیں کوئی مرض ہے مگر کسی نے بتایا کہ نہیں، نشہ کی حالت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب فرمایا کہ شراب منع ہے تو اس وقت مدینہ میں ایک دعوت ہو رہی تھی شراب کے مشکوں کے ملکے بھرے رکھے تھے اور لوگ پی پی کر مست ہو رہے تھے کہ گلی میں سے ایک شخص اعلان کرتا ہوا گزرا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب منع کر دی ہے، ایک شخص اٹھا کہ باہر جا کر معلوم کروں کہنے والا کیا کہتا ہے مگر دوسرا اسی نشہ کی حالت میں اٹھا اور سونٹا مار کر مٹکوں کو تو ڑ دیا کہ پہلے شراب کو زمین پر بہا کر پھر دریافت کریں گے اس کے مقابل میں امریکہ کی حالت دیکھو کہ جن کو حکم دیا گیا وہ ہوش میں تھے پھر اس قانون کا نفاذ کرانے کیلئے کروڑوں روپیہ تنخواہ لینے والے سپاہی تھے مگر کامیابی نہ ہوسکی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہ کوئی فوج تھی، نہ پولیس، مخمور لوگوں کے کان میں آپ کی آواز پڑتی ہے اور وہ یہ بھی برداشت نہیں کرتے کہ پوچھ لیں اعلان کا کیا مطلب ہے اور اسی وقت شراب کے مکے تو ڑ دیتے ہیں اور پھر شراب کی شکل تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔یہی وہ چیز ہے جس سے کام ہوتے ہیں۔اسلام کے بعد کسی اور مذہب کی ضرورت نہیں میرے پاس ایک دفعہ ایک جماعت بہائیوں کی آئی ان کا عقیدہ ہے کہ بہاء اللہ نئی شریعت لائے تھے ان سے گفتگو ہوتی رہی۔میں نے کہا کہ میں ایک بات پیش کرتا ہوں دنیا کو ضرورت تھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آ کر اسے پورا کیا اور آپ کی آمد سے دنیا کی ضرورتیں پوری ہو گئیں۔اب آپ لوگ کہتے ہیں بہاء اللہ آئے اور نئی شریعت لائے لیکن تم کوئی ایسا مسئلہ بتاؤ جس کی ضرورت دنیا کو ہومگر وہ قرآن کریم میں نہ ہو۔بہاء اللہ کا قول اور فعل میں یہ بات ہمیشہ بہائیوں کے سامنے پیش کرتا رہا ہوں مگر آج تک کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔میرے سفیر انگلستان کے دوران میں ایک مشہور بنکر کی جو ہانگ کانگ میں کام کرتا ہے بیوی مجھ سے ملنے آئی۔وہ بہائی ہے اس کے سامنے یہ بات جب میں نے پیش کی تو وہ کہنے لگی میں بتاتی ہوں اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے اب ایک ہی بیوی رکھنی چاہئے بہاء اللہ نے