انوارالعلوم (جلد 13) — Page 312
انوار العلوم جلد ۱۳ 312 تحقیق حق کا صحیح طریق اس حکم کی اصلاح کی ہے۔میں نے کہا۔اول تو یہ امر بحث طلب ہے کہ شادی ایک ہی چاہئے یا زیادہ کی بھی اجازت ہو سکتی ہے لیکن اس امر کو تسلیم کر کے میں پوچھتا ہوں کہ تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے کہ خود بہاء اللہ کی دو بیویاں تھیں اگر دنیا کے سب لوگوں کو صرف ایک بیوی کی ضرورت تھی اور اسی بات کو رائج کرنے کیلئے وہ آئے تھے تو انہوں نے خود کیوں دو کیں اور پھر اپنے بیٹے عباس کو کیوں کہا کہ تمہارے ہاں اولاد نہیں ہوتی ، اس لئے دوسری شادی کر لو۔پہلے تو اس نے ان واقعات کا سرے سے انکار کر دیا لیکن اس کے ساتھ ایک ایرانی بہائی عورت تھی۔میں نے کہا اس سے پوچھو کیا یہ باتیں درست ہیں یا نہیں۔میرے اصرار پر اس نے پوچھا تو اس ایرانی بہائی عورت نے جواب دیا کہ ہم مانتے ہیں، ان کی دو بیویاں تھیں مگر وہ دعوئی سے پہلے کی تھیں۔میں نے کہا جب وہ خدا تعالیٰ کا بروز تھے تو کیا وہ پہلے سے نہ جانتے تھے کہ میں نے یہ تعلیم دینی ہے۔مگر خیر اس بات کو بھی جانے دو یہ بتاؤ کہ بعد میں کیا ہوا۔وہ کہنے لگی دعویٰ کے بعد انہوں نے ایک کو بہن قرار دے دیا۔میں نے کہا اول تو یہ صریح ظلم ہے کہ ایک کو بیوی رکھا اور دوسری کو بہن بنا لیا۔مگر اسے بھی جانے دو اور یہ بتاؤ کہ کیا اس عورت کے بطن سے کہ جسے انہوں نے بہن قرار دے دیا تھا آخر تک اولاد ہوتی رہی یا نہیں کیا وہ اولادا اپنی بہن سے پیدا کر رہے تھے۔یہ بات سن کر وہ شرمندہ ہوگئیں۔ان کے ساتھ ایک امریکن لیڈی تھی کہ وہ بھی اپنے آپ کو بہائی کہتی تھی یہ باتیں سن کر وہ کھڑی ہوگئی اور جوش سے کہنے لگی میں اسلام کو مانتی ہوں، بہائیت کو نہیں۔غرض اس وقت تک کوئی بات ایسی معلوم ایک خلاف عقل عقیدہ کی اصلاح نہیں ہوئی کہ جس کی دنیا کوضرورت ہو اور قرآن کریم میں مذکور نہ ہو اور میں کہ سکتا ہوں کہ دنیا کا کوئی انسان کسی علم سے اعتراض کرئے میں انشاء الله العزیز قرآن کریم سے ہی اسے جواب دوں گا۔اور میرا دعویٰ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر دنیا کی ضرورتوں کو پورا کر دیا اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی آکر یہ بات کی ہے۔یعنی دنیا کی ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔قرآن کریم آخری کتاب ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی مگر اس کے باوجود اس کے ماننے والوں نے اس سے اعراض کر کے اس کے علوم کو کھو دیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے علوم کو پھر دنیا میں رائج کیا اور اس کے مخفی خزانوں کو ظاہر کیا۔مثال کے طور پر میں بیان کرتا ہوں کہ مسلمانوں میں باوجود قرآن کی تعلیم کے صریح خلاف یہ عقیدہ پیدا ہو گیا تھا کہ