انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 310

310 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق چھوڑنے کی طاقت لوگوں کے دلوں میں پیدا کی۔امریکہ نے شراب نوشی کی ممانعت کا قانون پاس کیا مگر وہ طاقت نہ پیدا کر سکا جو شراب ترک کرنے کیلئے ضروری تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف شراب سے نہ روکا بلکہ وہ طاقت پیدا کی جس سے اسے چھوڑا جا سکتا ہے اور یہی فرق ہے اسلام میں اور دنیوی طاقتوں و حکومتوں میں۔کسی چیز کو حرام قرار دینے اور لوگوں سے اسے چھڑانے کیلئے بھی ایک طاقت چاہئے کیونکہ یہ ایک قربانی ہے جو بغیر طاقت کے نہیں ہو سکتی اور یہ طاقت دنیوی نہیں بلکہ وہ طاقت ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور جسے قوت قدسیہ کہا جاتا ہے۔بوعلی سینا کے متعلق لکھا ہے کہ آپ ایک دفعہ کوئی مسئلہ بیان کر رہے تھے ان کی تقریرین کر ایک شاگر داھو ہو گیا اور مستی میں آکر کہنے لگا خدا کی قسم آپ تو محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ کر ہیں۔وہ ایک فلسفی اور نیک آدمی تھے اس وقت تو خاموش رہے جب سردی کا موسم آیا، عراق میں سردی بہت پڑتی اور پانی جم جاتا ہے وہ ایک تالاب کے پاس بیٹھے تھے جو بالکل یخ بستہ تھا۔اسی شاگرد کو انہوں نے کہا کہ اس تالاب میں کود پڑو۔اس نے جواب دیا کہ آپ اتنے بڑے طبیب ہو کر ایسی جہالت کی بات کہتے ہیں۔وہ کہنے لگے بے حیاء تجھے یاد نہیں، تو نے ایک دفعہ کہا تھا کہ تم محمد رسول اللہ سے بھی بڑھ کر ہو۔محمد رسول اللہ کے تو ایک اشارے پر ہزاروں لوگوں نے جانیں فدا کر دیں مگر تو میرے کہنے پر اس تالاب میں بھی نہیں گو دسکتا۔تو اصل چیز قوت قدسیہ ہے۔جب امریکہ نے شراب کی بندش کے احکام جاری کئے تو میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اس میں دیکھنے والی بات یہی ہے کہ وہ اس پر عمل بھی کر سکتا ہے یا نہیں اور وہ وقت آ گیا ہے کہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ اسلام اور دنیوی حکومتوں کی طاقتیں کتنا بڑا فرق رکھتی ہیں۔اب امریکہ جہاں سے چلا تھا، وہیں واپس آ گیا اور اس نے ممانعت شراب کے قانون کو منسوخ کر دیا ہے۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا عجیب واقعہ ہے۔آپ نے حکم دیا کہ شراب منع ہے اور سب جانتے ہیں کہ نشہ والے شخص کو کوئی ہوش نہیں ہوتا۔مجھے تو اس کا تجربہ نہیں باہر رہنے والوں کو تو ایسے لوگوں کو دیکھنے کے مواقع عام طور پر ملتے رہتے ہیں۔ہاں ایک دفعہ مجھے یاد ہے کہ میں گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔اسی کمپارٹمنٹ میں ایک ریاست کے وزیر صاحب بیٹھے تھے۔جنہیں میں نہیں پہچانتا تھا مگر وہ مجھے جانتے تھے۔کہنے لگے کیوں مرزا صاحب آپ کی کیا خاطر کروں ؟ اور اسی فقرہ کو بار بار دہرانا شروع کیا۔پھر ایک اور صاحب بیٹھے تھے انہیں کہنے لگے تمہیں شرم نہیں آتی