انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 293

293 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق اپنے اندر ہی اپنی صداقت کے دلائل رکھتی ہے اور اس پر جو غور کرے اسے ماننا پڑے گا کہ یہ خدا کی کتاب ہے۔مثلاً اس کی فطری تعلیمات کو لے لوصاف معلوم ہوگا کہ یہ ایک ایسی ہستی کی طرف سے ہے جو فطرت انسانی کو جاننے والی ہے۔باقی کتب میں یہ بات نہیں ان پر جب اعتراض کیا جاتا ہے تو جواب کے لئے ان کے ماننے والوں کو اپنے دماغوں پر زور ڈالنا پڑتا ہے مگر کامیابی پھر بھی نہیں ہوتی لیکن قرآن کریم کا دعوی ہے کہ کوئی اعتراض کر و جواب اس کے اندر موجود ہے گویا یہ اپنا بوجھ خود اٹھاتا ہے۔باقی مذاہب کی مثال یہ ہے کہ جو شخص ان کو مانے وہ اپنی گٹھڑی ان کے سر پر رکھ دیتے ہیں۔مگر اسلام پر جو ایمان لائے یہ اس کا بھی بوجھ خود اٹھا لیتا ہے اور یہ ایک ایسی فضیلت ہے جس میں دنیا کا اور کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اسی چیز کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بار بار پیش کرو۔جَاهِدَ هُم بِهِ جِهَاداً كَبِيرًا 19 تجھے یہ ایک ایسی تلوار دی گئی ہے کہ اس سے دشمنوں کا مقابلہ کر اور پھر ان کے اندر میری محبت کے جذبات پیدا کر۔ہر مضمون اس چھوٹی سی کتاب میں موجود ہے۔ایک عیسائی لکھتا ہے کہ قرآن انا جیل کے مجموعے سے چھوٹا ہے۔لیکن انا جیل میں صرف ایک مسئلہ رحم بیان کیا گیا اور قرآن میں ساری باتیں موجود ہیں۔گویا دشمن بھی اس کی اس خوبی کا اعتراف کرتے ہیں اور مانتے ہیں کہ اس میں روحانیت کے متعلق سب باتیں موجود ہیں۔اور یہ ایک ایسی بات ہے جسے دیکھ کر ہر شخص کو ماننا پڑتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی۔تیرہ سو سال کے بعد آج جو حضرت مرزا صاحب اور فہم قرآن اعتراضات پیدا ہوتے ہیں، ان کے جوابات بھی اس کے اندر موجود ہیں جس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور یہ چیز حضرت مرزا صاحب کو بھی دی گئی مگر اس طرح نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کوئی نئی کتاب دی بلکہ آپ کو قرآن کریم کا خاص فہم عطا کیا اور یہ بھی ایسی چیز ہے جو بندے کی طاقت سے باہر ہے۔جس وقت دنیا کے سامنے یہ امر پیش کرنے کی ضرورت ہوئی کہ رسول کریم ﷺ کو جو قرآن ملا وہ آپ کی صداقت کی دلیل ہے اس وقت خدا تعالیٰ نے آپ کو خصوصیت کے ساتھ فہم قرآن عطا کیا۔ادھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی فرمایا ہے۔کہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یعنی جب تک کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے پاک نہ کر دیا گیا ہو قرآن کا خاص فہم حاصل نہیں کر سکتا۔اس طرح گو یا بتا دیا کہ مامورین و مرسلین اور ان کے بچے توابع کے بغیر کسی کو کامل فہم