انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 294

انوار العلوم جلد ۱۳ 294 تحقیق حق کا صحیح طریق قرآن کا عطا نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ انعام حاصل ہونے پر بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی تصنیف براہین احمدیہ میں چیلنج دیا کہ اگر کوئی غیر مسلم اپنی مذہبی کتاب میں سے ان خوبیوں کا پانچواں حصہ بھی ثابت کر دے جو میں نے قرآن کریم میں بیان کی ہیں، تو میں اسے اپنی ساری جائداد انعام میں دے دوں گا۔اس جائداد کی قیمت کا اندازہ اس وقت دس ہزار روپیہ کیا گیا تھا کیونکہ اس زمانہ میں زمینیں بہت سستی تھیں۔ہماری برادری ہی کے ایک آدمی نے اس زمانہ میں کچھ زمین سولہ سو کو خریدی تھی جو اب ڈیڑھ لاکھ میں بیچی ہے۔تو اس زمانہ میں دس ہزار کے معنی آج کے لحاظ سے لاکھوں روپیہ کے تھے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یه چیلنج دیا مگر آج تک کسی نے اسے قبول نہیں کیا۔اب بھی وہ کتاب موجود ہے اور اس کے چیلنج کو ہم آج بھی تسلیم کرتے ہیں۔اسی طرح قرآن کریم کی تفسیر اور عربی لکھنے کے متعلق بھی آپ نے چیلنج دیئے کہ قرآن کریم کی اتباع کی وجہ سے مجھے یہ نعمتیں عطا ہوئی ہیں اور ان میں میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔چنا نچہ کوئی سامنے نہیں آیا۔پروفیسر مارگولیتھ جو اسلام کے بڑے مخالف اور بڑے مصنف ہیں وہ ایک دفعہ مجھ سے ملنے کے لئے قادیان آئے اور کہنے لگے۔کوئی ایسی بات پیش کریں جو میرے لئے حجت ہو۔میں نے ان انعامات کا ذکر کیا جو حضرت مرزا صاحب نے مخالفین اسلام کے لئے پیش کئے ہیں۔اس پر کہنے لگے اگر میں جواب لکھوں تو کون انعام دے گا، کیونکہ مرزا صاحب تو فوت ہو چکے ہیں میں نے کہا بے شک حضرت مرزا صاحب فوت ہو چکے ہیں مگر آپ کا سلسلہ تو فوت نہیں ہوا۔آپ جواب دیں، میں آپ کو انعام دوں گا۔وہ اس کا تو کوئی جواب نہ دے سکے مگر ولایت میں جا کر انہوں نے لوگوں سے بیان کیا کہ میں قادیان گیا تھا وہاں کوئی شخص بھی مجھ سے عربی میں بات چیت نہ کر سکا۔اس کے دو سال ہی بعد میں تبلیغ کے کاموں کو دیکھنے کے لئے ولایت گیا جہاں مجھے بتایا گیا کہ وہ یوں کہتا ہے۔بعض دوستوں نے کہا: اس کے اس دعوی کو غلط ثابت کرنا چاہیئے۔ایک دفعہ ہم ایک میٹنگ میں گئے جہاں وہ بھی موجود تھا۔ایک طرف میں بیٹھ گیا اور دوسری طرف حافظ روشن علی صاحب مرحوم اور اس سے عربی میں گفتگو شروع کی لیکن دو چار فقرے بولنے کے بعد ہی وہ کہنے لگا کہ مجھ سے انگریزی میں گفتگو کریں اس پر سب انگریز ہنس پڑے۔غرض آب بھی دعویٰ موجود ہے۔