انوارالعلوم (جلد 13) — Page 292
292 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق تھوڑا سا کام کر کے رات کو بے فکری کے ساتھ ذکر الہی کر سکیں۔دوسری حکمت اس میں یہ ہے کہ قادیان سارا ہماری ملکیت ہے اور اب بھی جن لوگوں نے وہاں زمینیں لی ہیں وہ سب احمدی ہیں اس لحاظ سے بھی گویا وہاں کے لوگ ہماری رعایا ہیں اس لئے وہاں کے لوگوں کی حضرت مرزا صاحب کے متعلق شہادت پر کوئی کہہ سکتا تھا کہ خواجہ کا گواہ مینڈک اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سیالکوٹ لا ڈالا جہاں آپ کو غیروں میں رہنا پڑا اور اس طرح خدا تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ نا واقف لوگوں میں سے وہ لوگ جن پر آپ یا آپ کے خاندان کا کوئی اثر نہ ہو آپ کی پاکیزہ زندگی کیلئے شاہد کھڑے کئے جائیں۔پھر سیالکوٹ پنجاب میں عیسائیوں کا مرکز ہے وہاں آپ کو ان سے مقابلہ کا بھی موقع مل گیا۔آپ عیسائیوں سے مباحثات کرتے رہتے تھے اور مسلمانوں نے آپ کی زندگی کو دیکھا۔قادیان کے لوگوں کو آپ کے مزارع کہا جا سکتا تھا مگر سیالکوٹ کے لوگوں کی یہ حیثیت نہیں تھی۔وہاں کے تمام بڑے بڑے مسلمان آپ کی علوّ شان کے معترف ہیں۔مولوی میر حسن صاحب جو ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے استاد تھے اور جن کے متعلق ڈاکٹر صاحب ہمیشہ اظہار عقیدت کرتے رہے ہیں۔اگر چہ آخر تک سلسلہ کے مخالف رہے مگر وہ ہمیشہ اس بات کے معترف تھے کہ مرزا صاحب کا پہلا کیریکٹر بے نظیر تھا اور آپ کے اخلاق بہت ہی اعلیٰ تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو سیالکوٹ میں معمولی نوکری اس غرض سے کرائی تھی۔اس زمانہ میں عیسائیوں کا بڑا رعب ہوتا تھا اب تو کانگریس نے اسے بہت کچھ مٹا دیا ہے اس زمانہ میں پادریوں کا رُعب بھی سرکاری افسروں سے کم نہ تھا اور اعلیٰ افسر تو الگ رہے ادنی ملازموں تک کی یہ حالت تھی کہ چٹھی رسان دیہات میں بڑی شان سے جاتے اور کہتے لاؤ مٹھائی کھلاؤ تمہارا خط لایا ہوں۔تو اس وقت پادریوں کا بہت رُعب تھا لیکن جب سیالکوٹ کا انچارج مشنری ولایت جانے لگا تو وہ حضرت مرزا صاحب کے ملنے کیلئے خود کچہری آیا۔ڈپٹی کمشنر اسے دیکھ کر اس کے استقبال کیلئے آیا اور دریافت کیا کہ آپ کس طرح تشریف لائے ہیں، کوئی کام ہو تو ارشاد فرما ئیں مگر اس نے کہا میں صرف آپ کے اس منشی سے ملنے آیا ہوں۔یہ ثبوت تھا اس امر کا کہ آپ کے مخالف بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ ایک ایسا جو ہر ہے جو قابل قدر ہے۔بَيِّنَةٍ اسلام کی فضیلت على بينة من ربہ میں دوسری چیز قرآن کریم ہے جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا۔یہ ایک ایسی کتاب ہے جو