انوارالعلوم (جلد 13) — Page 291
291 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق خود ہی شرمندہ ہو جائے گا۔وہ شہر سے باہر گئے اور شاندار استقبال کیا اور پھر ایک نے پوچھا آپ کی عمر کیا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اسامہ کو حضرت عمر اور حضرت ابو بکر پر سردار مقرر کر کے بھیجا تھا اس وقت جو اسامہ کی عمر تھی، میری اس سے ایک سال زیادہ ہے۔اس پر وہ لوگ سمجھ گئے کہ اس شخص کو عمر جیسے شخص نے کچھ دیکھ کر ہی یہاں کیلئے چنا ہے اور آپس میں اشارے کرنے لگے کہ بس اب کوئی شرارت نہ کرنا۔سواگر تنخواہ کا بھی کوئی معیار ہے تو بہر حال حضرت مرزا صاحب کی تنخواہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ تھی لیکن ہم اسے نبوت کے لئے کوئی معیار نہیں سمجھتے کیونکہ اگر تنخواہ کا زیادہ ہونا صداقت کا معیار ہوتو سب سے بڑا روحانی انسان ہندوستان کا وائسرے قرار پائے گا جو ساڑھے بائیس ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پاتا ہے۔اگر تنخواہ کی کمی بیشی بھی کوئی چیز ہے تو پھر پانچ سات کی کیا شرط ہے۔امریکہ کے پریذیڈنٹ اور وہاں کے بڑے بڑے کروڑ پتیوں کی فضیلت کو کیوں نہ تسلیم کیا جائے۔یہ تو وہی سوال ہے کہ کفار نے کہا تھا کہ اگر تو خدا کا رسول ہے تو تیرے پاس اس قد ر ا موال ہونے چاہئیں کہ تیرا گھر سونے کا ہو۔بتاتا سیالکوٹ میں ملازمت کی وجہ اور حکمت الہی فیر میں یا ہوں کہ خداتعالی جو آپ کو سیالکوٹ لے گیا تو اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ آپ کو گھر میں کھانے کو نہ ملتا تھا اور معاش کے لئے آپ کو کسی نوکری کی تلاش تھی۔خدا کے فضل سے گورنمنٹ ہمارے خاندان کو رؤسائے پنجاب میں شمار کرتی ہے ہماری جائیدا دکو دیکھ لو قادیان کے ہم مالک ہیں اور ان لوگوں سے قبل جنہوں نے سکونت کی غرض سے ہم سے زمین خریدی، کسی کی چپہ بھر زمین بھی وہاں نہ تھی۔اس کے علاوہ تین اور گاؤں ہماری ملکیت ہیں اور دو میں تعلقہ داری ہے۔پس سوچنا چاہئے کہ اگر مرزا صاحب نے نوکری کی تو ضرور اس میں کوئی اور غرض ہو گئی، آپ کے دل کی یا خدا تعالیٰ کی اور حقیقت یہ ہے کہ اس میں دونوں کی ایک ایک غرض تھی۔حضرت مرزا صاحب کی ایک تحریریلی ہے جو آپ نے والد صاحب کے نام لکھی تھی۔آپ کے والد صاحب آپ کو دنیوی معاملات میں ہوشیار کرنے کیلئے مقدمات وغیرہ میں مصروف رکھنا چاہتے تھے اور آپ کی جو تحر ریلی ہے اس میں آپ نے اپنے والد صاحب کو لکھا ہے کہ دنیا اور اس کی دولت سب فانی چیزیں ہیں مجھے ان کاموں سے معذور رکھا جائے مگر انہوں نے جب آپ کا پیچھا نہ چھوڑا تو آپ سیالکوٹ چلے گئے کہ دن کو