انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 290

290 انوار العلوم جلد ۱۳ تحقیق حق کا صحیح طریق دیکھو ایک طرف غیر احمدی مولویوں کا یہ عقیدہ ہے کہ کسی کو فلاں سے بڑا اور فلاں سے افضل نہیں کہنا چاہئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو حضرت امام حسینؓ سے بڑا کہا ہے لیکن جب آپ نے ابھی دعوی نہیں کیا تھا اس وقت مولوی محمد حسین صاحب نے کہا کہ تیرہ سو سال کے عرصہ میں اسلام کا اتنا بڑا خادم کو ئی نہیں پیدا ہوا۔یہ نہیں کہ آپ ایک اچھا نمونہ ہیں بلکہ یہ کہ تیرہ سو سال کے عرصہ میں اسلام میں آپ کی کوئی مثال ہی نہیں ملتی اور یہ اتنی بڑی شہادت ہے کہ جو بھی اس پر غور کرے اسے ماننا پڑے گا کہ آپ کی زندگی بے عیب تھی۔پھر کس طرح ممکن ہے کہ ایسا انسان یکدم ایک صبح اٹھ کر کہہ دے کہ خدا نے مجھے یوں کہا ہے حالانکہ خدا نے اسے کچھ نہ کہا ہو۔رات کو ایسی حالت میں سوئے کہ تیرہ سو سال کے عرصہ میں اس جیسا خادمِ اسلام کوئی نہ پیدا ہوا ہو، لیکن صبح اٹھتے ہی بے دین ہو جائے اور ا بے دین بھی ایسا کہ خدا پر افتراء کرنے لگ جائے۔ہمارا بیان نہ مانوان غیر مسلموں اور مخالفوں کو جنہوں نے آپ کا دعوی سے قبل کا زمانہ دیکھا ہے کہو کہ اپنے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر تم کھاتے ہوئے کہہ دیں کہ حضرت مرزا صاحب کی زندگی کیسی تھی۔ہر ایک یہی کہے گا کہ آپ تو ایک ولی اللہ تھے۔بعض لوگ دعوئی سے پہلی زندگی پر ہمیشہ از راه تمسخریہ ایک اعتراض کا جواب اعتراض کرتے ہیں کہ آپ پندرہ میں روپیہ کے سیالکوٹ میں ملازم تھے۔اس کے متعلق اول تو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک عورت سے نکاح کی خاطر اس کے والد کی دس سال بکریاں چرائیں اس لئے یہ بیہودہ اعتراض ہے۔پندرہ بیس روپیہ ماہوار بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تنخواہ سے زیادہ ہی ہیں جو ایک دور و پیہ ماہوار سے زیادہ نہیں بنتی۔مگر ہم کہتے ہیں اگر آپ دور و پیہ ماہوار پر بھی ملازم ہوتے تو بھی یہ کوئی اعتراض کی بات نہ تھی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں کوفہ کے لوگ ہمیشہ شرارتیں کرتے رہتے تھے اور عمال کو بہت تنگ کرتے تھے۔آپ نے ایک شخص کو جن کا نام عبدالرحمن تھا اور جسے انگریزی کتابوں میں SAGACIOUS QAZI کے نام سے یاد کیا جاتا ہے وہاں قاضی مقرر کر کے بھیجا اُس وقت ان کی عمر صرف 19 سال کی تھی۔وہ جب پہنچے تو کو فیوں نے کہا کہ دوگر به کشتن روز اوّل والا معاملہ اس کے ساتھ کرنا چاہئے اور شہر سے باہر جا کر اس کا مذاق اُڑانا چاہئے تا وہ سر نہ اُٹھا سکے۔انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ جب ملیں تو اس کی عمر پوچھیں